’والد کا ہاتھ جھٹک کر جہاد پر چلا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بات لاہور کے جواں سال محمد عمر فاروق چودھری نے ایک انٹرویو کے دوران کہی ان کےبقول وہ بیس برس تک ایسی عسکری کاروائیوں میں شریک رہے جو مذہب کی بنیاد پر کشمیر اور افغان قبائلی علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں۔ سی ایم فاروق کا کہنا ہے کہ ان کے والد جماعت اسلامی کےحامی تھے اور جب ٹی وی پر وہ افغانستان میں روسی فوج پر مجاہدین کے حملے کی خبر سن کر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تو ان پر اثر ہوتا تھا۔ سی ایم فاروق کا تجزیہ ہے کہ پنجاب کے ہر شہری گھرانے میں ایک نہ ایک شخصیت ایسی ضرور ہوتی ہے جس کا مذہب کی جانب جھکاؤ ہوتا ہے اور بچے پر اثر انداز ہونے کے لیے یہ کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برس تربیتی کیمپوں میں آتے جاتے رہے ان کا کہناہے کہ پنجاب سمیت میدانی علاقوں سے عسکری تربیت کے لیے آنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں تھی۔ سی ایم فاروق لاہورکے ایک کالج کی طلبہ تنظیم کے ذریعے عسکری تربیت کے لیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول کالج کے علاوہ عسکری تنظیموں کے اراکین بعض مساجد میں جاتے ہیں اور نمازی نوجوانوں کو جہاد کے لیے ترغیب دیتے اور انہیں تشدد کاراستہ دکھاتےہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان پڑھ اور جاہل نوجوان ہی عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جانب وہی آتا ہے جسے تھوڑی بہت ملکی اور عالمی حالات سے آگہی ہو اور وہ سمجھتاہو کہ امریکہ مسلمانوں کی اسرائیل،چیچنیا،مشرقی تیمور،سوڈان اور عراق سمیت ہر جگہ مخالفت کررہاہے۔ محمد عمر فاروق کا کہنا ہے کہ لال مسجد پر بمباری اور ہلاکتوں کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے مناظر اور آج کل ڈاکٹر عافیہ کی وہ تصویر جس میں اس کے چہرے پر کرب ہے، عام پاکستانیوں پر اثرانداز ہورہی ہے خاص طور پر نوجوان طبقہ مشتعل ہورہاہے۔ جہادی تنظیموں سے قریبی روابط رکھنے کے دعویدار محمد فاروق کا کہنا ہے کہ جب پاکستانی میڈیا خاتون ڈاکٹر عافیہ پر کیے جانے والے مبینہ مظالم کی تصویر کشی کرتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی گرفتاری پاکستانی حکمرانوں کی وجہ سے ہوئی تو نفرت کا نشانہ حکمران بھی بنتے ہیں۔ ایک عسکریت پسند تنظیم کے سیاسی ونگ کےعہدیدار کا کہناہے کہ نوستمبر کے بعد اگرچہ حکومت نے ان کی تنظیم پر بہت سی پابندیاں لگائیں لیکن عوامی سطح پر ان کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ محمد عمر فاروق کا تجزیہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی وجہ سےعام پنجابی نوجوان کے امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ملک کے شہری علاقوں میں ہونے والے خود کش دھماکوں سے پریشان بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بے قدری رکھنے والا نوجوان جب ٹریننگ کیمپ پہنچتا ہے تو اسے ایک نئی دنیا ملتی ہے جو اس کے متزلزل ذہن کی ایک نئی راہ متعین کرتی ہے۔’ آپ اسے برین واشنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسے بے حد عزت احترام دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ ہلاک ہوا تو شہید ہوگا جو اپنے ساتھ اپنی نسلوں کو بھی جنت لے جائے گا۔‘ عمر فاروق چودھری نے کہا کہ پھرایک ایسا مرحلہ آتا ہے کہ نوجوان ہاتھ جوڑ کر اور پاؤں میں گر کر یہ التجائیں کرتا ملتا ہے کہ اسے جہاد پر جانے کی اجازت دی جائے۔ ان کا دعوی ہے کہ عرب اور پنجابی جس بے جگری سے لڑتے ہیں وہ ناقابل یقین ہے عمر فاروق کہتے ہیں کہ پنجاب سے جانے والوں کادستہ پنجاب رجمنٹ کہلاتی ہے اور خود کش بمباروں میں ان کی تعداد کسی سے کم نہیں ہے۔ سی ایم فاروق نے کہا کہ مذہبی گھرانہ ہونے کے باوجود ان کے والدین نے ان کی جہادی تربیت کو ناپسند کیاتھا ان کی والدہ کا رو رو کر برا حال تھا اور پانچ بار ان کی آنکھوں کا آپریشن ہوا ان کے والد اس قدر پریشان ہوئے کہ انہوں نے اپنی سیاسی اور مذہبی وابستگی بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں ان معاملات سے دوررکھنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں ایک بار امام مسجد تک لے گئے لیکن اس وقت ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کوئی ماں اپنے بچے کو خودکش بمبار نہیں بنانا چاہتی لیکن پاکستانی میڈیا بہت پراثر ہوچکا ہے۔ سی ایم فاروق نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ جہاد کے مقابلے میں امریکہ جانےکی خواہش کرنے والوں کی تعداد ننانوے عشاریہ ننانوے فی صد ہو لیکن جو کوئی مایوس اورحالات سے دلبرداشتہ نوجوان ایک بار تربیت پر چلا گیا اور اسے جہاد کے بدلے جنت کاراستہ دکھا دیا گیا پھر وہ امریکی ویزے کی خاطر داڑھی کا ایک بال دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوگا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’جنت کا ٹکٹ حاصل کرنے والا امریکی ویزے کو کاغذ کے بے کار ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں دے گا۔‘ عمر فاروق یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پاکستانی نوجوان پیسے کی لالچ میں لڑرہے ہیں البتہ ان کا کہناہے کہ تنظیم کے اعلی عہدیدار سانس لینے کے بھی پیسے وصول کرتے ہیں۔ سی ایم فاروق کا کہنا ہے کہ چند برس پہلے عسکری تنظیموں سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے اور وہ لاپتہ افراد کےورثا کو قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ان کا کہناہے کہ وہ دوہزار چھ کے ممبئی بم دھماکوں کے ملزموں کا کیس لڑنے کے لیے نیپال اور بھارت گئے تھے۔ ان کاکہنا ہے کہ امریکہ اس خطے سے چلا بھی جائے تب بھی اس جنگ کا اختتام نہیں ہوگا کیونکہ اسلامی عسکریت پسند اسے حق اورباطل کی لڑائی سمجھتے ہیں جو ان کےبقول کفر کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||