لندن کا ’سائبر جہادی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس اس بات پر متفق ہیں کہ انٹرنیٹ پر دہشتگردی کی ترویج کے جرم میں گزشتہ برس لندن میں قید کیے جانے والے یونس تسولی کے مقدمے سے یہ بات قریباً مکمل طور پر واضح ہوئی ہے کہ شدت پسند کس طرح ویب کو نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خود کو دہشتگرد 007 کہلانے والا تسولی بوسنیا، سیکنڈے نیویا، کینیڈا اور ارمیکہ کے مبینہ دہشتگرد گروپوں سے رابطے میں تھا اور اس رابطے کا محور مغربی لندن کے علاقے شیپڑڈ بش میں واقع اس کا ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ تسولی کا تعلق ان چند برطانویوں سے بھی تھا جنہیں دہشتگردی اور متعلقہ الزامات کے تحت حال ہی میں جیل بھیجا گیا ہے۔ جب سنہ 2005 میں پولیس حکام نے تسولی کوگرفتار کیا تو انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس وقت تسولی کا شمار بدنامِ زمانہ سائبر جہادیوں میں ہوتا ہے۔ عراق میں سرگرم القاعدہ گروپوں کو تسولی کی شکل میں ایک ایسا فرد ملا جو ان کے خودکش دھماکوں اور سر قلم کرنے کے واقعات کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر تقسیم کر سکے۔ دہشتگردی کے بین الاقوامی ماہر ایوان کولمین کا کہنا ہے کہ’تسولی میں نہ صرف مارکیٹنگ کا ہنر موجود تھا بلکہ اس کے پاس وہ تکنیکی مہارت اور علم بھی تھا جس کی مدد سے وہ ان ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر ان مقامات پر رکھتا تھا جہاں سے انہیں جلد مٹایا نہ جا سکے‘۔ تسولی نے جہادی لٹریچر کی تقسیم اور بم بنانے اور ان کے استعمال کے حوالے سے ویب سائٹس بنائیں۔ اس نے عراق میں خودکش حملے کرنے کے خواہشمند افراد کوملک میں داخلے کے راستے سجھائے اور یہی نہیں بلکہ گرفتاری کے بعد اس کے کمپیوٹر سے درجنوں ممالک کے جہادیوں سے کی گئی گفتگو کا ریکارڈ بھی برآمد ہوا۔
تاہم ان سب سے زیادہ تشویشناک بات تسولی کے ان گروہوں سے روابط تھے جو دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ تسولی کے رابطے سکنڈے نیویا ممالک میں رہائش پدیر ان افراد سے بھی تھے جو خود کو شمالی یورپ میں القاعدہ کا نمائندہ قرار دیتے تھے۔ سنہ 2005 کے موسمِ خزاں میں کچھ دہشتگردوں نے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیو کا سفر کیا تاکہ مغربی فوجی تنصیبات پر خودکش حملے کیے جا سکیں۔ پولیس کو اس منصوبے کا علم ہو گیا اور گروہ کے سرغنہ کے موبائل فون ریکارڈز سے پتہ چلا کہ آخری کی جانے والی کال مغربی لندن کے ایک فلیٹ پر کی گئی تھی۔ یہ یونس تسولی کا فلیٹ تھا اور جب انسدادِ دہشتگردی پولیس نے تسولی کو گرفتار کیا اور ماہرین نے اس کے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تو ثبوتوں کا ایک ایسا سلسلہ سامنے آیا جس کی شاخیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھیں۔ ان ثبوتوں کی بنیاد پر شمالی امریکہ میں گرفتاریاں ہوئیں۔ ٹورنٹو میں سترہ مسلمانوں پر ایک بم مہم چلانے کا الزام لگایا گیا اور کچھ پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے پاس ورڈ کے ذریعے محفوظ بنائے جانے والے وہ ویب فورم استعمال کیے جو تسولی اور اس کے ساتھیوں نے بنائے تھے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ موئلر تسولی کے مقدمے کو بطور مثال استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے نئی حقیقتوں کا ادراک ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں غیر ممالک میں دہشتگرد لیڈروں اور شہروں کے تہہ خانوں میں چھپے کارندوں کی تلاش ہے۔ کیونکہ خطرہ صرف پاکستان کی پہاڑیوں میں ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے چھپے پردوں میں بھی ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان:’آج کی دنیا کاخطرناک ترین ملک‘ 27 October, 2007 | آس پاس میڈیا کے ماہر کا پیغام09 September, 2007 | آس پاس دہشت گرد منصوبہ اور امریکی میڈیا16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||