BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2008, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: بچوں سمیت چار ہلاک

مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارٹر گولا گھر پر گرنے سے بچوں اور خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر صدر مقام خار کے قریب شاگو کے علاقے میں پیش آیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تور غنڈی سکواٹس کیمپ سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر داغا گیا بھاری توپ کا ایک گولا گھر پر لگا جس سے چار افراد موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے جن میں تین بچیاں اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے۔

دریں اثناء پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ہے بلکہ وہاں عوام کے مطالبے پر سڑکوں اور شاہراہوں کی صفائی کا کام ہورہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پہلی رمضان المبارک سے تمام قبائلی علاقوں میں جنگ بندی کا جو اعلان کر رکھا تھا وہ اس پر بدستور قائم ہیں لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے دوران اگر سکیورٹی فورسز پر حملے کی کوشش کی گئی تو پھر اس کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین دنوں میں منڈا سے صدر مقام خار تک تمام اہم شاہراہوں اور سڑکوں کو عام لوگوں کےلئے محفوظ بنادیا ہے جبکہ ان علاقوں کوطالبان سے پاک کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے صد رمقام خار کے اردگرد واقع علاقوں میں حکومت کی عملداری بحال کرکے وہاں چیک پوسٹییں قائم کردی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صدر مقام خار اور اطراف کے علاقوں میں پیدل گشت شروع کردیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے باجوڑ ایجنسی کے اہم تجارتی مرکز صدیق آباد پھاٹک اور عنایت کلی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے باعث علاقے میں گزشتہ تین دنوں سے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے نوئی کلی میں واقع ایک افغان عسکریت پسند کے گھر کو آگ لگا کر تباہ کردیا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد