BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی سفارتخانہ: سکیورٹی میں اضافہ

امریکی سفارتکار کے گھر سکیورٹی(فائل فوٹو)
امریکی عمارات کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی
پاکستان میں امریکہ کے سفارت خانے اور قونصل خانے کومشتبہ مواد سے بھرے لفافے ملے ہیں جس کے بعد دونوں عمارتوں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ تاہم اس دوران امریکی سفارت خانہ اور قونصل خانہ معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔

اتوار کے روز امریکی سفارت خانے کے ترجمان لوفنٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم مواد سے بھرا ایک لفافہ جمعرات کو کراچی میں قونصلیٹ کو موصول ہوا اور جمعہ کے روز اسلام آباد میں سفارت خانے کو ایک ایسا ہی لفافہ ملا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک دونوں دفاتر میں کام کرنے والے اہلکاروں کو لفافے میں موجود مواد سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ لوفنٹر کے مطابق لفافوں میں موجود مواد کا لیباٹری میں تجزیہ کیا جا رہا اور آئندہ چند روز تک اس کی رپورٹ مل جائے گی۔

دھمکیاں اور دھماکے
 پاکستان میں اس سے پہلے بھی امریکہ سفارتخانے کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط اور ٹیلی فون موصول ہوتے رہے ہیں جبکہ دو ہزار دو اور چھ میں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے سامنے بم دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چار ستمبر کواسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کا ویزا سیکشن دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر عارضی طور پر نظر بند کر دیا گیا
امریکی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق جب بھی نامعلوم افراد کی طرف سے کوئی دھمکی ملتی ہے یا کوئی مشتبہ پیکٹ سفارت خانے میں بھیجا جاتا ہے تو ایک طے کردہ طریقہ کار کے تحت سفارت خانے اور قونصل خانے کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور پہلے سے ہی سفارت خانے میں موجود اہلکار سختی سے ہر چیز کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔

تاہم ترجمان نے بتایا کہ لفافے ملنے کے بعد نہ تو سفارتخانہ اور نہ ہی کراچی میں قونصل خانے کو بند کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کے روز دونوں جگہ معمول کے مطابق کام ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ لفافے کہاں سے آئے تاہم اس بارے میں ابھی مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکام اپنے طور پر تفتیش کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا جبکہ سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے بتایا کہ میڈیا پر خبر آنے کے بعد انہوں نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اس واقعہ کی انکوئری کریں۔

واضع رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے بھی امریکہ سفارتخانے کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط اور ٹیلی فون موصول ہوتے رہے ہیں جبکہ دو ہزار دو اور چھ میں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے سامنے بم دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چار ستمبر کواسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کا ویزا سیکشن دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر عارضی طور پر نظر بند کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد