لشکر طیبہ کی انڈیا کو تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید نے کہا ہے کہ اگر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انڈیا کی فوج کے مسلمانوں پر مظالم جاری رہے تو جہاد جاری رہے گا اور فیصلے مذاکرات سے نہیں بلکہ میدانوں میں ہونگے۔ اتوار کی رات آب پارہ چوک میں جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے موجودہ حکومت کی کمشیر اور افغان پالسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی پالیسیوں کا پہرہ دے رہی ہے بلکہ آصف زرداری اور ان کے ساتھی کمشیر پالیسی پر بھارت کو مطمئن رکھنے کے لیے مشرف سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ اس سے پہلے مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ نے بھارتی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے راولپنڈی کے لیاقت باغ سے اسلام آباد کے آب پارہ چوک تک ایک ریلی نکالی جس میں جماعت کےسربراہ اور کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے بھی شرکت کی۔
حافظ سعید نے کہا کہ انہیں یہ قطعی منظور نہیں ہو گا کہ بھارتی کشمیر میں ہندوں تنظمیوں کو زمین کی الاٹمنٹ اور پذیرائی ملتی رہے جبکہ مسلمانوں کے لیے بھارتی فوج کی گولی کے سوا کچھ نہ ہو۔ حافظ سعید نے ریلی میں شامل سابق چیف آف جنرل سٹاف مرزا اسلم بیگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی کشمیروں کو ان کی مالی مدد کی ضرورت ہے اس لیے جماعت الدعوۃ نے کشمیروں کی مدد کے لیے فنڈ قائم کر دیا ہے۔ حافظ سعید نے اس موقع پر پر زور الفاظ میں کہا کہ اس کے علاوہ ان کو جس مدد کی ضرورت ہے ہم ہر مدد کے لیے بلکل تیار ہیں اور وہ مدد آج بھی جاری ہے کل بھی جاری رہے گی ۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف رمضان میں باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن روکنے کا کہا ہے لیکن ہم پورے ملک میں ایسی تحریک چلائیں گے کہ اب باجوڑ ایجنسی میں دوبارہ آپریشن شروع نہیں ہوسکےگا۔ واضع رہے کہ حافظ سعید بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری جدوجہد میں مصروف لشکر طیبہ کے بانی تھے لیکن جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں اس تنظیم پر پاکستان میں پابندی لگنے کے بعد انہوں نے ایک نئی تنظیم جماعت الدعوۃ قائم کرلی تھی۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورہ اقتدار میں جہادی تنظیموں کے جسلوں اور چندہ اکٹھا کرنے پر پابندی تھی۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت اکثر الزامات لگاتی رہتی ہے کہ انڈیا میں ہونے والے مختلف بم دھماکوں میں لشکر طیبہ ملوث ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا:لشکرطیبہ کی لاتعلقی کاخیرمقدم01 November, 2005 | انڈیا ’دِلّی دھماکوں میں لشکر کا ہاتھ‘13 November, 2005 | انڈیا ’لشکر طیبہ ملوث ہے‘ خاکے جاری09 March, 2006 | انڈیا ممبئی: تفتیش لشکر سے آگے بڑھ گئی15 July, 2006 | انڈیا لشکر طیبہ کی مدد، 4 اہلکار زیرِ تفتیش26 July, 2006 | انڈیا حزب، لشکر کے اہم رہنما ہلاک09 December, 2006 | انڈیا لشکر کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی18 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||