انڈیا:لشکرطیبہ کی لاتعلقی کاخیرمقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے کہا ہے کہ اگر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے واقعی دلی بم دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تو وہ اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ بھارت کے داخلہ امور کے وزیر مملکت شری پرکاش جسوال نے کہا ’اگر لشکر طیبہ دلی بم دھماکوں کی مذمت کر رہا ہے اور اس حرکت کو غیراسلامی قرار دے رہا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘ بھارتی وزیر داخلہ بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔ اس سے قبل سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا تھا کہ لشکر طیبہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے دفتر میں فون کرکے کہا ہے کہ ’دلی کے بم دھماکوں میں ہم کسی طرح بھی ملوث نہیں ہیں ۔ یہ دھماکے غیر اسلامی ہیں اور تنظیم اسکی مذمت کرتی ہے ۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ لشکر طیبہ کے بیان پر یقین رکھتے ہیں، بھارتی وزیر مملکت نےکہا ’ ہم کسی پر شک یا یقین کی بات نہیں کر رہے۔ ہم تفتیش کر رہے ہیں اور کوئی حتمی بات تفتیش کے مکمل ہونے پر ہی کہہ سکیں گے۔‘ شری پرکاش جسوال کے مطابق انہوں نے کسی گروپ کا نام نہیں لیا اور وہ کسی واضح ثبوت کے سامنے آنے سے قبل مذید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے دھماکوں کی تفتیش پر منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ دلی میں انتیس اکتوبر کی شام کو تین بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس ابھی تفتیش کر رہی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ گرچہ ابھی کوئی حتمی سراغ نہیں ملا ہے لیکن پولیس نے اس طرح کے اشارے دئے تھے کہ اس میں لشکر طیبہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں دہلی دھماکے: غیر ملکی ہاتھ کی تلاش 31 October, 2005 | انڈیا دلی دھماکہ: شناخت میں دقتیں 31 October, 2005 | انڈیا منموہن کی ’تنقید‘، پاکستان کی تردید31 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||