دہلی دھماکے: غیر ملکی ہاتھ کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے کہا ہے کہ دہلی میں ہونے والے بم دھماکوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ سرحد پار سے دہشت گردی کا کارروائیوں کو روکنے کے وعدہ پر قائم رہے ۔ صدر پرویز مشرف سے ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ بھارت 29 اکتوبر کے دھماکوں میں بیرونی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے اشاروں سے مضطرب و مایوس ہے۔ دلی میں ہونےوالے بم دھماکوں کی ذمہ داری ایک گمنام گروہ، اسلامی انقلابی محاذ نے قبول کی ہے۔ بھارتی حکام کو شک ہے کہ اسلامی انقلابی محاذ کے غیر ملکی گروپوں سے روابط ہو سکتے ہیں جن کے مراکز پاکستان میں ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ کوئی پاکستانی گروہ ان دھماکوں میں ملوث تھا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ جب تک کسی پاکستانی گروہ کی دھماکوں میں شمولیت کا ثبوت فراہم نہیں کیے جاتا اس وقت تک یہ الزام ہی رہے گا اور پاکستان اس الزام کو قبول نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف نے من موہن سنگھ کو بتایا کہ پاکستان دہلی دھماکوں کی تحقیات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ثبوت فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کے مطابق بھارت کاخیال ہے کہ بم دھماکوں میں پاکستان سے تعلق یا رابطہ رکھنے والے گروہ ملوث ہیں۔ جنرل مشرف نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو پیر کی شام فون کرکے نئی دہلی کے دھماکوں اور آندھر پردیش میں ٹرین حادثے میں لوگوں کی جانیں ضائع ہونے پر تعزیت کا اظہار کیا۔ نئی دہلی میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ نے صدرِ پاکستان کو بتایا کہ ملک میں اس بھیانک دہشت گرد کارروائی پر غم و غصہ ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا: ’دہشت گردی ملکی سالمیت اور یکجہتی کے بارے میں ہماری قوتِ ارادی اور عزم کو کمزور نہیں کرسکتی۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ نے سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے پاکستان کے وعدے کی جانب جنرل پرویز مشرف کی توجہ دلائی اور کہا کہ انہیں |
اسی بارے میں ’یہ بزدلانہ دہشتگردی ہے‘29 October, 2005 | انڈیا دھماکے ایک ہی گروہ نے کیے: حکام30 October, 2005 | انڈیا دلّی پولیس کو اہم سراغ ملے ہیں31 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||