BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے ایک ہی گروہ نے کیے: حکام
دلی دھماکہ
دھماکوں کی جگہ سے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں
دلی پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن تا حال اس کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔

بھارتی وزیرِداخلہ کا کہنا ہے ’ہمارے لوگ صحیح سمت میں کام کر رہے ہیں اور تحقیقات اچھی جا رہی ہیں‘۔

وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے گزشتہ روز بھی اپنی کابینہ کے کچھ ارکان کے ایک اجلاس کی صدرات کی جس میں ان دھماکوں کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں ابھی تک مایوسی کی جھلک ہے اور دیوالی اور عید کی رونقیں مانند ہیں۔ شہر میں حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔

ہفتے کی شام ہونے والے ان تین دھماکوں میں 60 افراد ہلاک جبکہ 210 زخمی ہو گئے تھے۔ دلی پولیس کے مطابق مرنے والےافراد میں سے تنتالیس سروجنی نگر میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے جبکہ سولہ افراد پہاڑ گنج میں ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے۔

گووند پوری میں ہونے والے دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جس بس پر بم رکھا گیا تھا اس کا ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تینوں دھماکوں میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔ دلی پولیس کے سپیشل سیل کے جوائنٹ کمشنر کرنیل سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ’ ان دھماکوں کے وقت سے ایسا لگتا ہے کہ ان تینوں کیسوں کے پیچھے ایک ہی گروہ کا ہاتھ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انقلابی نامی گروہ کی جانب سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بیان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں تاہم انہوں نے ان چھاپوں میں کسی بھی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں دلی پولیس اور خفیہ ادادروں کے اعلٰی اہلکاروں نے بھارتی کابینہ کو دیوالی اور عید کے تہواروں کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس اجلاس کے بعد بھارتی وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ہفتے کو ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر کسی مخصوص تنظیم یا گروہ کا نام نہیں لے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لوگ صحیح سمت میں کام کر رہے ہیں اور تحقیقات اچھی جا رہی ہیں‘۔

دلی میں دیوالی اور عید سے قبل حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے شہر کے بڑے بازاروں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

66دِلی پر خوف کے سائے
دِلی میں سالوں بعد پھر عدم تحفظ کا احساس
66عینی شاہدوں نےدیکھا
’مدد کرناچاہتا تھا، مگر میں حواس باختہ تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد