دلّی پولیس کو اہم سراغ ملے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہفتے کے روز دلی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس کو کچھ اہم سراغ ملے ہیں۔ بم دھماکوں کے دو مقامات سے پولیس کو موبائل فون کے کچھ ’سم کارڈز‘ ملے ہیں جن سے کی گئی کالز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ دلی پولیس دھماکوں کے وقت سے قبل کی جانے والی عمومی موبائل فون کالز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ پولیس گووند پوری کی بس میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں ایک مسافر کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے جس نے بم رکھنے والے شدت پسند کو دیکھا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ بظاہر تفتیش میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ اتوار کو وزیرِداخلہ شیو راج پاٹل نے بھی اشارہ دیا تھا کہ تفتیشی اداروں کو کچھ اہم سراغ ہاتھ لگ گئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی لاشیں جل جانے کے سبب ناقابلِ شناخت ہو گئی ہیں۔ دھماکوں کے تیسرے دن بھی بہت سے افراد لاپتہ پیں اور ان کے لواحقین اور رشتہ دار ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں تاکہ اپنے پیاروں کے بارے میں معومات حاصل کر سکیں۔ ادھر پہاڑ گنج اور سروجنی نگر میں جہاں بم دھماکوں میں تقریبا ساٹھ لوگ ہلاک ہوئے تھے دکانيں دوبارہ کھل گئی ہیں اور زندگی رفتہ رفتہ معمول پر واپس آ رہی ہے۔ بھارت میں منگل کو دیوالی کا تہوار منیا جا رہا ہے اور روشنیوں کے اس تہوار سے ایک دن قبل بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ دلی کے علاوہ ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دلی میں خاص طور پر حفاظتی انتظامات زیادہ سخت ہیں کیوں کہ پیر کو ایک ذیلی عدالت لال قلعہ پر حملے کے قصوروار افراد کی سزاؤں کا تعین کرنے والی ہے۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ بم دھماکوں کا تعلق کہیں اس معاملے سے تو نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے، تفتیش میں پیش رفت30 October, 2005 | انڈیا دھماکے ایک ہی گروہ نے کیے: حکام30 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||