رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | پاکستان فوج نے باجوڑ میں طالبان کی طرف سے یکہ طرفہ جنگ بندی کے اعلان سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے |
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے قبائلی عمائدین اور مشران کی درخواست پر یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ قبائلی عمائدین اور مشران پر مشتمل ایک جرگہ کی بار بار درخواست پر علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی کاروائیاں عارضی طورپر بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان اور جرگہ اراکین کے درمیان امن مذاکرات گزشتہ تین دنوں سے جاری تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کا فیصلہ علاقے کے عوام اور جرگہ کے پرزور مطالبے پر کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جرگہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان کی طرف سے فائر بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز بھی اپنی کاروائیاں بند کردینگے۔ تاہم دوسری طرف پاکستان فوج نے باجوڑ میں طالبان کی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال باجوڑ ایجنسی میں آپریشن بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے بلکہ یہ کاروائیاں اہداف حاصل ہونے تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے علاقے میں تشدد کے واقعات میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ تاہم فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں حکومت کی عملداری بحال ہونے تک عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ دریں اثناء باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کے قریبی رہائشی علاقے صدیق آباد پھاٹک سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے جنہیں جاسوسی کے الزام میں گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص مبینہ جاسوس تھا۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے جو غیروں کےلئے مخبری کرےگا اس کا یہی انجام ہوگا۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں تقریبا دو ہفتوں سے سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا جس میں عام شہریوں سمیت ہلاک ہونے افراد کی تعداد سو سے زیادہ ہوچکی ہے۔ حکومت نے طالبان کو نشانہ بنانے کےلئے پہلی دفعہ جیٹ طیاروں کا استعمال کیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے جبکہ تقریبا تین لاکھ افراد نے باجوڑ ایجنسی سے ہجرت کرکے محفوظ مقامات پر پناہ لی ہے۔ نقل مکانی کرنے والے خاندان صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں بدستور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ |