اراکینِ پارلیمان اور دیگر کے بیرونِ ملک علاج کی فہرست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دو سال کے دوران سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کروانے والوں میں سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی فاروق احمد خان لغاری کے بیرون ملک علاج پر سرکاری خزانے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس کے بیرون ملک علاج پر ایک لاکھ پاونڈ سٹرلنگ خرچ ہوئے۔ تاہم متحدہ قومی موممنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران فالج کا حملہ ہوا اور اس کے علاج کے لیے انگلینڈ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے علاج معالجے پر 50000 پاونڈ سٹرلنگ خرچ ہوئے تھے جبکہ بقایا 50000 پاونڈ سٹرلنگ حکومت کو واپس کردئیے تھے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات میں رکن قومی اسمبلی بیگم نزہت صادق کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزیر صحت شیری رحمان نے تحریری جواب میں کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران 25 افراد کو بیرون ملک علاج معالجے کے لیے بھجوایا گیا۔ ان افراد میں گورنر، ارکان پارلیمنٹ ، وزراء کے علاوہ بیوروکریٹس اور سپریم کورٹ کے جج بھی شامل ہیں۔ ان افراد کی لسٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی جس کے مطابق سابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن کے علاج پر 25000 پاؤنڈ سٹرلنگ خرچ کیے گئے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم جاوید بُٹر کی انکھ کے علاج پر پانچ ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے گئے۔سابق حکومت میں پارلیمانی سیکرٹری مظہر احمد قریشی کے بیٹے کے علاج پر 50000 پاونڈ سٹرلنگ سرکاری خزانے سے خرچ کیے گئے۔رفعت امجد سابق پارلیمانی سیکرٹری کے بیرون ملک علاج معالجے پر 40000 امریکی ڈالر خرچ کیے گئے۔ وزارت خزانہ کی جوائیٹ سیکرٹری نظارت بشیر کے علاج پر ساٹھ ہزار امریکی ڈالر، ڈپٹی چیف پروٹوکول امان راشد کے علاج پر 55772 امریکی ڈالر،ڈاکٹر حامد رؤف کے علاج پر 60000 امریکی ڈالر، پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین ملک اللہ یار (وفات پا چکے ہیں) کے علاج پر 2804335 روپے، صوبہ سرحد کے سابق گورنر خلیل الرحمن کے علاج پر 12000 یورو اور سنیٹر الیاس بلور کے علاج پر 1870 پاونڈ سٹرلنگ خرچ ہوئے۔ نجکاری کمیشن کے سابق سیکرٹری عارف منصور اور اُس کے تین بچوں کے علاج کے بارے میں بل ابھی پیش نہیں کیا گیا۔ پاکستان ریلوے کے ڈپٹی چیف مکینکل افسر انصر بلال خان کے علاج پر 60000 امریکی ڈالر، پولی کلینک کے ڈاکٹر احمد فاروق کے علاج پر 35000 ہزار پاونڈ سٹرلنگ جبکہ ایک اور بیوروکریٹ طاہر ملک کے علاج پر بائیس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ جوائینٹ چیف اکانومسٹ آصف شیخ کے علاج پر 8422 یورو اور انکم ٹیکس کے ایڈیشنل کمشنر چوہدری صفدر حسین کے علاج پر دو لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے ساتھ اُن وجوہات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت اُنہیں بیرون ملک علاج معالجے کے لیے بھیجا گیا۔ اس تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے علاج کے لیے پاکستان میں سہولتیں میسر نہیں تھیں اور انہیں ڈ اکٹروں کی ہدایت پر بیرون ملک علاج کے لیے بھیجا گیا۔ | اسی بارے میں دفاعی بجٹ کی تفصیلات بھی آ گئیں17 June, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان اور عدلیہ کا مسئلہ17 June, 2008 | پاکستان ججوں کی تعداد: درخواست خارج18 June, 2008 | پاکستان ’بھیک مانگ کر بجٹ پیش کیا‘21 June, 2008 | پاکستان ’پی سی او ججوں کی مخالفت جاری‘21 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||