BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 July, 2008, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو آپریشن ختم، 16 اہلکار ہلاک

ہنگو آپریشن
فوج نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
پاکستانی فوج کی طرف سے ہنگو میں شرپسندوں کے خلاف آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بدھ کے روز اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ تیرہ جولائی کو شروع ہونے والے آپریشن میں فوج کے جوان علاقے کو ’شرپسندوں‘ سے پاک کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں حکومت کی عملداری ختم ہوتی جا رہی تھی اور علاقے کے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران بیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ساٹھ کو گرفتار کر کے مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ٹھکانے بھی تباہ کردیے گئے ہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ’شر پسندوں‘ کے خلاف ان کارروائیوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سولہ اہلکار ہلاک جبکہ فوج کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ایک سوال پر کہ کیا فوجی دستے واپس بیرکوں میں چلے جائیں گے، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کا فیصلہ وفاقی یا صوبائی حکومت کرے گی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ گرفتار یا ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں القاعدہ کے رکن بھی شامل ہیں تو انہوں نے کہا کہ چونکہ فوجی اہلکاروں نے گرفتار ہونے والے افراد کو ہنگو کی مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا تھا اس لیے مقامی انتظامیہ اس بارے میں بہتر بتا سکتی ہے کہ اس میں غیر ملکی شامل تھے یا نہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس نے دعوی کیا کہ اس آپریشن میں مقامی آبادی نے علاقے کو ’شرپسندوں‘ سے صاف کرنے کے لیے فوج کے ساتھ بہت تعاون کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات میں ’شرپسند‘ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اُن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو درپیش انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ قومی پالیسی تیار کرے گی۔ اس اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ شدت پسندی کے مقابلہ کے لیے کثیرالجہتی پالیسی کا اہم حصہ عوام کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانا ہوگا۔

اسی بارے میں
ہنگو میں اہداف حاصل: فوج
22 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد