بچوں کی بھرتی، کانسٹیبلری پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے صوبۂ سرحد اور قبائلی علاقوں میں متحرب عسکریت پسندوں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری پر بچوں کو لڑائی کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا موقف لینے کے لیے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رات گئے تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سپارک نے پاکستان میں بچوں کی صورتحال پر سال دو ہزار سات کے لیے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردی اور اسکے خلاف جنگ میں بچوں کا استعمال پاکستانی بچوں کے لیے ایک نئی اور سب سے بڑی آفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سپارک کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اس رپورٹ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ذکر ہے جو کہ پاک فوج کا حصہ نہیں ہیں۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ فورس صوبائی حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے اور نیم فوجی ضمرے میں آتی ہے لہذا اس بارے میں وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
رپورٹ کی خالق فاضلہ گلریز نے سپارک کی گیارہویں سالانہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک تو جبری مشقت اور جنسی استحصال پاکستانی بچوں کو درپیش اہم ترین مسائل رہے ہیں لیکن اس برس دہشت گردی اور اسکے خلاف ہونے والی جنگ میں بچوں کا استعمال سب سے بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں عسکریت پسندوں پر تو بچوں کو ’مجاہدین‘ کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان میں سرکاری افواج پر بچوں کو لڑائی کے لیے استعمال کرنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ ’تشدد کی اندھیری گلی‘ کے نام سے بچوں کے پر تشدد کارروائیوں میں استعمال کے بارے میں رپورٹ کے باب میں کہا گیا ہے تنظیم کے قبائلی علاقوں میں کیے گئے ایک سروے میں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حکومت اٹھارہ برس سے کم عمر لڑکوں کو فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بھرتی کر رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت ان بچوں کو اٹھارہ سال کا ہونے سے پہلے ہی فوج میں بھرتی کر کے انہیں فوجی کارروائیوں کے لیے استمعال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے شورش زدہ اضلاع میں عسکرتی پسند تنظیمیں بھی فوجی مقاصد کے لیے بچوں کو بھرتی کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بچوں کے ذہن بدلنے کی کوشش اور والدین کو مالی فائدوں کے علاوہ بچوں کو اغوا کرنے اور ڈرا دھمکا کر دہشت گردی کی کارروائیوں پر مجبور کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ فاضلہ گلریز نے بتایا کہ ان کی تحقیق کے مطابق ان تخریبی کارروائیوں میں چھ سال تک کے بچوں کو استعمال کرنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں لیکن عموماً اس مقصد کے لیے دس سے سولہ سال کے بچوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں گیارہ اور بارہ سال کے دو بچوں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جس میں کچرا چننے والے یہ بچے ازبک جنگجوؤں کے ہاتھوں اپنے اغوا اور ناکام خودکش حملے میں استعمال کئے جانے کی تفصیل بتاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے سوات اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران کئی بچوں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں جنکا تا حال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ نو عمر ’مجاہدین’ سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں ضلع سوات کے علاقے کبل کے ایک سکول کے ہاسٹل سے لاپتہ ہونے والے چار نو عمر لڑکوں کا ذکر بھی شامل ہے جو تاحال لا پتہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگی مقاصد کے لیے بچوں کا بڑھتا استعمال نہ صرف اس جنگ میں شامل بلکہ ملک کے دیگر بچوں کے لیے بھی ایک بہت خطرناک نفسیاتی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے جس کے باعث نو عمر لڑکوں میں تشدد اور جرائم میں ملوث ہونے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں نوجوان کے خودکش بننے کی کہانی27 May, 2008 | پاکستان پاکستان:روزانہ گیارہ سو بچوں کی اموات23 January, 2008 | پاکستان پنجاب جیلوں میں آٹھ ہزار بچے قید22 July, 2008 | پاکستان نابالغ بچی کا جبری نکاح19 June, 2008 | پاکستان باجوڑ :سرکردہ قبائلی سردار ہلاک21 July, 2008 | پاکستان طالبان چوکیاں خالی کرنے پر آمادہ19 July, 2008 | پاکستان وزیرستان: جاسوسی کا الزام، تین قتل18 July, 2008 | پاکستان طالبان کے خلاف قبائل متحد ہو گئے18 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||