ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ایمونائزیشن مہم میں اس سال سے ہیپاٹائٹس بی بھی شامل کر دی جائے گی: حکومت |
اقوام متحدہ کی بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ذیلی تنظیم یونیسف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے بچے زیادہ تر ایسے امراض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔ منگل کو جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ گیارہ سو سے زائد بچے مر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دس میں سے چھ بچے اپنی پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی مر جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایشیا میں افغانستان اور میانمار کے بعد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں شرح اموات کے حوالے سے پاکستان تیسرا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد میں اس رپورٹ کو جاری کرنے کے موقع پر نگران وفاقی وزیر صحت اعجاز رحیم نے اعلان کیا کہ بچوں کی ایمونائزیشن کی مہم میں اس سال جولائی سے ہیپاٹائٹس بی بھی شامل کر دی جائے گی۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستان میں یونیسف کے نمائندے مارٹن موگوانجا نے کہا کہ بچوں کی بہت سی اموات کا سبب وہ امراض ہیں جن کی روک تھام کے لیے محض چھوٹے چھوٹے اقدامات کافی ہیں۔ ’وزارت صحت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ہمارے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں، ماں کا دودھ پلانے، بچوں کی پیدائش کے دوران حفظان صحت تک عورتوں کی رسائی اور صفائی ستھرائی کی موزوں سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے لاتعداد زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔‘ پاکستان میں بہت سی ایسی حکومتی سکیمیں موجود ہیں جن کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو حفظان صحت اور صحت و صفائی کی بنیادی سہولتیں ان کی دروازے پر فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں پولیو اور خسرہ کی روک تھام کے لیے ملکی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو حفظان صحت کی سہولتوں کی فراہمی بہتر کرنے کے لیے کارروائیاں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز جیسے پروگرام شامل ہیں۔
 | ہر بیس منٹ میں ایک ماں  حمل اور بچے کی پیدائش میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ہر بیس منٹ میں ایک عورت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان میں ہر ایک لاکھ زندہ ولادتوں میں سے تین سو بیس کیسوں میں ماں اور بہت سے کیسوں میں نوزائیدہ بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے  یونیسف |
تاہم یونیسف کے نمائندے کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے کم عمر کے ہزاروں ایسے بچوں کی جان بچانے کے لیے جو ہر سال بلاوجہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ابھی مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ’درپیش چیلنجوں میں سب سے بڑا چیلنج ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کے لیے صحت کی سہولتوں میں بہتری پیدا کرنا ہے۔‘ پاکستان میں ایک تہائی سے کم بچوں کی ولادت ماہر طبی عملے یعنی ڈاکٹر، نرس یا دایہ کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ ’نتیجتاً حمل اور بچے کی پیدائش میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ہر بیس منٹ میں ایک عورت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان میں ہر ایک لاکھ زندہ ولادتوں میں سے تین سو بیس کیسوں میں ماں اور بہت سے کیسوں میں نوزائیدہ بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ بلوچستان میں یہ اعدادوشمار بڑھ کر چھ سو سے زائد ہو گئے ہیں۔‘ رپورٹ کے مطابق بچوں میں شرح اموات کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ماؤں کو اعلٰی معیاری طبی دیکھ بھال، تعلیم اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔
 | پولیو نصف  پاکستان میں دو ہزار سات میں خسرہ کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی مہم میں تین کروڑ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکوں سے تحفظ فراہم کیا جس کے نتیجے میں دو ہزار چھ میں رجسٹر کیے گئے خسرہ کے کیسوں کی تعداد تقریباً نصف ہوگئی  یونیسیف |
یونیسیف کی سالانہ رپورٹ سے ظاہرہوتا ہے کہ پاکستان میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت داروں کی مدد سے حکومت نے دو ہزار سات میں خسرہ کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی مہم میں تین کروڑ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکوں سے تحفظ فراہم کیا جس کے نتیجے میں دو ہزار چھ میں رجسٹر کیے گئے خسرہ کے کیسوں کی تعداد تقریباً نصف ہوگئی۔ مارٹن گوانجا نے کہا کہ ’ہر بچے اور ہر ماہ کو حفظان صحت، غذائیت اور صفائی ستھرائی کی اچھی سہولتوں تک رسائی کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان ایک مضبوط قوم کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔‘ وفاقی وزیر صحت اعجاز رحیم نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ یہ رپورٹ دنیا کی سب سے اہم ترین آبادی یعنی بچوں کی جانب توجہ مبذول کراتی ہے۔
|