BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی بچوں سے بدسلوکی بڑھ گئی‘

بچی
سنہ دو ہزار چھ کے مقابلے میں بچوں کے خلاف ہونے والے واقعات دُگنے ہو گئے
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے زیادتی، ان کے اغوا اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چھ کے مقابلے میں ایسے واقعات دُگنے ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں ان واقعات کی تعداد چھ سو سترہ تھی جبکہ سنہ دو ہزار سات میں تقریباً سولہ سو واقعات پیش آئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون کا نفاذ نہ ہونا اور معاشرتی رویہ اس قسم کے واقعات میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان بچوں کی مشرق وسطیٰ سمگلنگ کا اہم راستہ ہے۔

’لائرز فار ہیومن رائٹس اینڈ لیگل ایڈ‘ کے سربراہ ضیاء اعوان کا کہنا ہے کہ اس زمیندارانہ معاشرے میں عورتوں کی طرح بچوں کو بھی ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے‘۔

اعوان کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اس کو اہمیت نہیں دیتے۔

 حکومتی بے حسی کی وجہ سے اغوا ہوئے بچوں کے والدین پولیس کی بجائے خود ہی اغوا کاروں سے سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کو بھی رپورٹ کرنا معاشرتی طور پر ممنوع ہے۔

انہوں نے کہا ’ان واقعات کے مجرمان کے لیے قانون میں سزا ہے لیکن ان قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘۔ضیاء اعوان نے کہا کہ ان واقعات کی تعداد ہر سال ہزاروں میں ہوتی ہے لیکن ان کی تنظیم صرف اُن واقعات کو مرتب کرتی ہے جو کہ اخبارات میں آتے ہیں یعنی جن کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’یہ پوری تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے کیونکہ اسی فیصد واقعات کی رپورٹ ہی نہیں کی جاتی۔‘

خیال ہے کہ حکومتی بے حسی کی وجہ سے اغوا ہوئے بچوں کے والدین پولیس کی بجائے خود ہی اغوا کاروں سے سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کو بھی رپورٹ کرنا معاشرتی طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں جسم فروش بچے
18 November, 2007 | پاکستان
پرائمری تعلیم کا ذکر تک نہیں
15 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد