BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 September, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرائمری تعلیم کا ذکر تک نہیں

پاکستانی لڑکی
قبائلی علاقوں بلوچستان اور اندرون سندھ میں لڑکیوں کی شرح خواندگی دس فیصد سے کم ہے۔
حکومت پاکستان نے آزادی کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر ایک کتابچہ شائع کیا ہے جس میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی ترقی کا احاطہ کیا گیا ہے مگر اس کتابچے میں پرائمری ایجوکیشن یا بنیادی تعلیم کا کوئی ذکر نہیں۔ بقول تعلیمی ماہرین اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے تعلیم کوئی ترجیح نہیں اور ویسے بھی ساٹھ برسوں میں اس شعبے پر قومی بجٹ کا ایک فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا ہے۔

حکومتی سروے کے مطابق ملک میں اس وقت خواندگی کی شرح ترپن فیصد ہے جس میں لڑکیوں کی انتالیس اور لڑکوں کی اکسٹھ فیصد بتائی جاتی ہے۔ جہاں تک لڑکیوں کی شرح خواندگی کا تعلق ہے اس کا بیشتر حصہ شہروں میں ہے جبکہ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور اندرون سندھ لڑکیوں کی شرح خواندگی دس فیصد سے کم ہے۔

خواتین کی تنظیم عورت فاؤنڈیشن سے وابستہ نزہت شرین کہتی ہیں کہ حکومت اعلیٰ تعلیم پر کافی پیسہ خرچ کر رہی ہے مگر بنیادی تعلیم پر اس کی کوئی توجہ نہیں اور تیس ہزار سے زائد سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے بچے تعلیم کی طرف راغب نہیں ہورہے ہیں۔

بعض لوگ حکومت پنجاب کی نئی تعلیمی پالیسی کی تعریف کرتے ہیں جس کے تحت لڑکیوں کو حصول تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لیے ایک سکیم کے تحت انہیں ماہانہ دو سو روپے دیے جاتے ہیں اور اس کا مثبت اثر محسوس کیا جارہا ہے۔

اب وفاقی حکومت نے بھی اسی طرح کا منصوبہ چند پسماندہ علاقوں کے لیے ترتیب دیا ہے اور ہر صوبے کے دو ضلعوں کی لڑکیوں کو بعض مراعات دینے کا پرگرام بنایا ہے۔

تعلیمی ماہرین کہتے ہیں کہ آزادی کے پہلے دس سال میں تعلیم کا معیار نہ صرف بہتر ہوا بلکہ سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ بھی دیکھا گیا مگر ستر کے اوائل میں جب سکولوں کو قومی تحویل میں لیا گیا اس سے یہ شعبہ کافی متاثر ہوا اور پھر ’اسلام کے غلبے‘ سےخصوصاً لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنا دشوار ہوگیا۔

وفاقی وزیر جاوید اشرف قاضی نے بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں نئی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح تعلیم میں یکسانیت پیدا کرنا ہے اور نصاب، داخلے اور امتحانات کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔

’ملک میں ایک پالیسی ہو، ایک نصاب ہو، ایک وقت پر امتحان اور داخلے ہوں ہر کوئی اپنی من مرضی کا نصاب نہیں بنا سکتا اور اپنے انداز سے ٹائم ٹیبل تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ تعلیم کی ترویج وترقی صوبوں کی ذمہ داری ہے جو اسے پوری نہیں کررہے ہیں ہم نے ان کو خبردار کیا ہے اور ہم ان کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں‘۔

میں نے جب وزیر تعلیم سے پارٹیشن سے متعلق نصاب کی جانب توجہ دلائی اور پوچھا کہ بعض مضامین نفرت کو ہوا دے رہیں ہیں انہوں نے کہا:

’ہم نے ملک کی آزادی خصوصاً تقسیم سے متعلق نصاب کا غور سے جائزہ لیا ہے جس میں کافی تبدیلی کی گئی ہے ’ہم ہندو یا بھارت کے خلاف نفرت کرنا نہیں سکھاتے، جس کا الزام ہم پر بار بار تھوپا جاتا ہے مگر دو قومی نظریہ سے متعلق ابواب تاریخ کی کتابوں میں شامل ہیں جس میں تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار اور کوششوں کو سراہا گیا ہے‘۔

پاکستان کے پرائمری سکولوں میں بچوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ان کے مقابلے میں اسلامی یا نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلباء داخلہ لیتے ہیں جس کی بڑی وجہ ان اداروں میں تعلیم کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
ہزاروں دیہات بغیر سکول کے
02 September, 2005 | پاکستان
پنجاب کتنا پڑھا لکھا ہے؟
25 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد