’ہر سوواں بچہ دل کا پیدائشی مریض‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہر سال چالیس سے پچاس ہزار بچے دل میں نقص لیے پیدا ہو رہے ہیں اور ان میں اسّی فیصد بچوں کے دل میں سوراخ اور باقیوں کے دل کے والو ناقص ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے واحد مکمل ہسپتال’چلڈرن ہسپتال‘ میں دل کے مرض میں مبتلا آٹھ سو سے زائد بچے آپریشن کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں جبکہ ہسپتال میں ایک ہفتے کے دوران صرف چھ سے سات بچوں کا آپریشن کیا جا سکتا ہے اور یوں ہرگزرتے دن کے ساتھ آپریشن کے منتظر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لاہور میں واقع چلڈرن ہسپتال میں شعبۂ امراض دل کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سو بچوں میں سے ایک بچہ پیدائشی طور دل کے نقص میں مبتلا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر سے روزانہ ساٹھ سے ستر دل کے مریض بچے تشخیص کے لیے ہسپتال آتے ہیں۔ ان کے مطابق مریض بچوں کی تعداد کے پیش نظر ایک ہفتے کے دوران کم از کم بیس سے پچیس بچوں کے آپریشن کی ضرورت ہے لیکن کام کی زیادتی اور سہولتوں کی کمی کے وجہ سے ایک ہفتے میں صرف چھ سے سات بچوں کا ہی آپریشن ہوتا ہے اور اس شرح سے آٹھ سو بچوں کے آپریشن کے لیے قریباً دو برس کا عرصہ درکار ہے۔ ڈاکٹر مسعود نے بتایا کہ گزشتہ برس تین سو پچیس بچوں کا آپریشن ہوا جبکہ تین سو پچاس بچوں کی اینجیوگرافی کی گئی تھی۔ ان کے کہنا ہے کہ امراض قلب میں متبلا بچوں کی بڑی تعداد کا علاج ادویات کے ذریعے کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود مریض بچوں کی ایک بڑی تعداد کے مرض کا واحد علاج آپریشن ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جن بچوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں ان میں ایک دن کی عمر سے لے کر چودہ برس کے عمر کے بچے شامل ہوتے ہیں۔ ہسپتال میں بچوں کے علاج کے لیے آنے والوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہیں جو آپریشن کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہسپتال میں داخل چھ ماہ کے بچے کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بچے کے علاج پر ایک لاکھ روپے کا خرچہ آئےگا اور وہ ایک ملازم پیشہ غریب آدمی ہیں اور علاج کرانے استطاعت نہیں رکھتا تاہم ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وہ زیورات فروخت کرے گا۔ ہسپتال میں ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا آپریشن گزشتہ برس ہوا تھا اور وہ کامیاب آپریشن کے بعد مکمل طور پر صحت مند ہے اور طبی معائنہ کے لیے ہسپتال آئی ہے۔واضح رہے کہ دل کے مریض پاکستانی بچوں کو علاج کے لیے ان والدین بھارت بھی لے جاتے رہے ہیں جہاں بھارتی شہر بنگلور میں بچوں کے کامیاب آپریشن ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں قیلولہ ’دل کے لیے اچھا‘13 February, 2007 | نیٹ سائنس سٹیم سیلز سے دل کا والو بنا لیا گیا02 April, 2007 | نیٹ سائنس ٹیلی فون سے دل کی تشخیص کامیاب27 May, 2007 | نیٹ سائنس بڑھا ہوا پیٹ اور امراض قلب14 August, 2007 | نیٹ سائنس دماغ مردہ ہونے کا مطلب موت نہیں12 September, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||