دماغ مردہ ہونے کا مطلب موت نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی پروفیسر نے کہا ہے کہ موت کو صرف سائنس کی اصطلاحات میں سمجھنا غلط ہو سکتا ہے۔ پروفیسر ایلن کیلیئر کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں اور عام لوگوں میں اس سلسلے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے کیونکہ سائنسدانوں کے خیال میں انسان اس وقت مر جاتا ہے جب اس کا دماغ ناکارہ ہو جائے لیکن عام لوگ شاید اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ پروفیسر ایلن کیلیئر کا کہنا ہے کہ اس تضاد کے پیش نظر اس بات پر بحث ضروری ہو گئی ہے کہ آیا دماغ کے مردہ ہو جانے کو انسان کی موت سمجھ کر اس کے اعضا نکالنا اور زندگی برقرار رکھنے والی طبعی مشینیوں کو ہٹا لینا درست ہے یا غلط۔ یونیورسٹی آف باتھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ایلن کیلیئر نے اپنے خیالات کا اظہار ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا ہے۔ پروفیسر کیلیئر کا استدلال ہے کہ دماغ کے مردہ ہونے کو موت تسلیم کرنے کا نظریہ سائنسدانوں کے ایک خاص گروہ کی پیداوار ہے اور اس کے پیچھے کسی قدر انسانی اعضاء کے آسان حصول کی سوچ کار فرما ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ زندگی قائم رکھنے والی مشینیں ہٹانے سے پہلے مریض کے عزیزوں سے رضامندی لی جاتی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ان عزیزوں کو یہ معلوم نہ ہوتا ہو کہ وہ اصل میں مریض کے دماغ کے مردہ ہو جانے کو اس کی موت تسلیم کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جن علامات کو دماغ کے مردہ ہو جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے ان میں مریض کی آنکھیں ٹھہر جانا، اس کے پپوٹوں کا پھیل جانا، حرکت نہ کر سکنا اور بظاہر سانس نہ لے سکنا شامل ہیں، لیکن دماغ کے مردہ ہونے کا تعین کرتے وقت یہ مدنظر نہیں رکھا جاتا کہ مریض کا دل ابھی تک دھڑک رہا ہے یا نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کی نظر میں مریض کو اس وقت تک مردہ نہیں قرار دیا جانا چاہیئے جب تک اس کا دل دھڑک رہا ہو۔ مشکل فیصلے ان کا کہنا تھا کہ ’آج سے چالیس برس قبل کسی کو مردہ قرار دیے جانے کی علامت بالکل سادہ تھی یعنی مریض کو مردہ تب قرار دیا جاتا تھا جب اس کا دل دھڑکنا بند کر دیتا تھا۔‘ ’ اب موت کا معاملہ اس وجہ سے پیچیدہ ہو گیا ہے کہ آپ دماغ مردہ ہو جانے کے بعد بھی مریض کو برسوں مشینیوں کے سہارے زندہ رکھ سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر کسی کے دماغ کے مردہ ہو جانے کے مرحلے پر مشینیں ہٹا سکتے ہیں یا اس کے اعضاء نکلا سکتے ہیں لیکن مردہ دماغ مریض کی حیثیت ایک لاش سے مختلف ہوتی ہے۔‘ اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر کیلیئر کا کہنا تھا کہ ’ جہاں تک ایک لاش کا تعلق ہے تو وہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، حرکت نہیں کر سکتی اور نہ ہی حاملہ ہو سکتی ہے لیکن ایک مریض جس کا دماغ مردہ ہو چکا ہو وہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ایک عام شخص کی نظر میں ایک مردہ دماغ شخص اور سوئے ہوئے شخص میں ظاہری علامات کی بنیاد پر تمیز کرنا آسان نہیں۔ جب بچنے کے امکانات بہت کم ہوں ’اگر بستر پر پڑی مریضہ آپ کی بیٹی ہو تو اس کے زندہ بچ جانے کے خفیف امکان کی حیثیت جو آپ کی نظر میں ہوتی ہے وہ آپ کی بیٹی کے ڈاکٹر کی نظر میں نہیں ہو سکتی۔‘ ’ آج کل مسئلہ یہ ہے کہ کسی کا دماغ مردہ ہو جانے کے بعد اس شخص کو مردہ قرار دیے جانے کا فیصلہ صرف طبعی بنیادوں پر کیا جاتا ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ معاشرتی بنیادوں پر ہونا چاہیئے۔‘ طبعی اخلاقیات کے جریدے ’بلیٹن آف میڈیکل ایتھکس‘ کے مدیر ڈاکٹر رچرڈ نکولس نے اس سلسے میں کہا کہ موت کی موجودہ تعریف جزوی طور انسانی اعضاء کو قابل استعمال حالت میں نکال لینے کی ضرورت سے متاثر ہے۔ واضح رہے کہ انیس سو ساٹھ اور انیس سو ستر تک کی دہائیوں تک میڈیکل ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی کہ مریض کا دل بند ہو جانے کے بعد اس کے اعضاء کو کامیابی کے ساتھ قابل استعمال حالت میں نکالا جا سکے۔ پروفیسر کیلیئر کے خیال کی تائید کرتے ہوئے ڈاکٹر رچرڈ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ کسی مریض کو مردہ قرار دیے جانے کے موجودہ معیار سے بہت سے عزیزوں کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ مریض کے اعضاء نکال سکتے ہیں، حلانکہ اس وقت مریض کا دل دھڑک رہا ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں لواحقین اعضا کی منتقلی میں رکاوٹ12 May, 2006 | نیٹ سائنس چہرے کی پہلی پیوندکاری06 February, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||