بے خوابی: دماغی خلیے بننا بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بے خوابی سے دماغ کے نئے خلیے بننا بند ہوجاتے ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے چوہوں پر تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ بے خوابی سے دماغ کا ’ہپو کیمپس‘ نامی وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو براہ راست یادداشت محفوظ کرنے کا کام کرتا ہے۔ ایک برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ کہ ابھی وہ یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ایسا صرف بے خوابی میں ہوتا ہے یا پھر کم سونے کے بھی یہی نتائج ہوتے ہیں۔ تحقیق کے دوران چوہوں کو 72 گھنٹے تک جگائے رکھا گیا۔ پھر ان چوہوں کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ ان کے دماغ میں نئے خلیے بننا بند ہوچکے تھے۔ اگلے ایک ہفتے تک ان چوہوں نے عمومی نیند لی جس سے یہ سامنے آیا کہ دماغ نے نئے خلیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ تحقیقات کار الزبتھ گولڈ کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک بے خوابی دماغ کے ایسے حصے کو متاثر کردیتی ہے جس سے نئے خلیے بننا بند ہوجاتے ہیں۔ وہ لوگ جو بے خوابی کا شکار رہتے ہیں انہیں کسی بھی کام پر توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ نیند کے امور کے ماہر ڈاکٹر نیل سٹینلی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے تنتائج براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جاسکتے کیونکہ انسان 72 گھنٹے تک بے خوابی کا شکار انتہائی سخت حالات میں ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں جاگتے رہنے کا آسان طریقہ17 May, 2004 | نیٹ سائنس جیٹ لیگ کے اسباب05 May, 2004 | نیٹ سائنس کم نیند، جگر کےامراض 28 May, 2005 | نیٹ سائنس خراٹے لینا ایک موروثی مسئلہ؟11 April, 2006 | نیٹ سائنس بغیر رُکے، سوئے ہوئے دنیا کا چکر02 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||