خراٹے لینا ایک موروثی مسئلہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خراٹے لینا ایک موروثی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ سنسناٹی میں بچوں کے ہسپتال میں ماہرین نے دیکھا کہ ان بچوں میں نیند میں شور مچانے کا زیادہ امکان ہے جن کے والدین خراٹے لیتے ہیں۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہےکہ بچوں اور والدین کے اس تعلق کی وجہ خاندان میں موٹاپا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ خراٹے لینے میں آدھی وجہ وزن ہوتی ہے۔ امریکہ میں اس تحقیق میں چھ سو اکیاسی خاندان شریک ہوئے اور یہ ’چیسٹ‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں خراٹوں کو الرجی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ تحقیق میں شامل پندرہ فیصد بچے خراٹوں کے عادی تھے اور انتیس فیصد میں الرجی پائی گئی۔ والدین میں بیس فیصد مائیں اور چھیالیس فیصد والد خراٹوں کے عادی پائے گئے۔ اکیس عشاریہ آٹھ فیصد ایسے بچے جن کے والدین خراٹے لیتے ہیں نیند میں خراٹے لیتے ہوئے پائے گئے جبکہ اکیس عشاریہ پانچ فیصد الجری کا شکار تھے۔ تحقیق کے مطابق خراٹے لینے والے ایسے بچوں کی تعداد صرف سات عشاریہ سات فیصد ہے جن کے والدین خراٹے نہیں لیتے۔ ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ خراٹے الرجی کی وجہ سے سانس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں واضح کر سکے کہ ایسے بچوں میں خراٹے لینے کا امکان زیادہ کیوں ہوتا ہے جن کے والدین سوتے میں شور مچاتے ہیں۔ | اسی بارے میں اپنی مرضی کے خواب دیکھیئے14 January, 2004 | نیٹ سائنس جاگتے رہنے کا آسان طریقہ17 May, 2004 | نیٹ سائنس بغیر رُکے، سوئے ہوئے دنیا کا چکر02 February, 2005 | نیٹ سائنس کم نیند، جگر کےامراض 28 May, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||