سٹیم سیلز سے دل کا والو بنا لیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی سائنسدان پہلی مرتبہ سٹم سیلز (stem cells) یعنی بنیادی خلیوں کی مدد سے انسانی دل کا ایک حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ کارنامہ سرانجام دینے والی ٹیم کے سربراہ مگدی یعقوب کے مطابق مصنوعی طریقے سے بنائے جانے والے دل کے مختلف حصوں کو ڈاکٹر تین سال کے اندر مریضوں کے جسم میں لگانے کے قابل ہو جائیں گے۔ پروفیسر مگدی یعقوب خود دل کے سرجن ہیں اور انہیں ’سر‘ کا خطاب دیا جا چکا ہے۔ ہئرفیلڈ ہسپتال میں ان کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم ایسے ٹشوز بنانے میں کامیاب ہوئی ہے جو اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے دل کے والو (valve) کام کرتے ہیں۔ روزنامہ گارڈین سے بات کرتے ہوئے سر مگدی یعقوب نے بتایا کہ آئندہ دس برسوں میں سائنسدان سٹم سیلز کی مدد سے پورا انسانی دل بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ گزشتہ ایک دہائی سے اس منصوبے پر کام کرنے والی ہئر فیلڈ ہسپتال کے سائنسدانوں کی ٹیم میں طبعیات، ادویات، کلینک میں کام کرنے والے ماہرین اور خلیوں کے ماہر سائنسدان شامل ہیں۔ مذکورہ ماہرین اپنی اس کامیابی کو انسانی اعضاء مکمل طور پر مصنوعی طریقے سے بنانے کی کوششوں کے سلسلے کی اہم کڑی قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں سٹم سیلز سے بنے مصنوعی اعضاء مستقبل میں پیوندکاری کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔
واضح رہے کہ سٹم سیلز میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری قسم کے خلیوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ کئی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سٹم سیلز کی اس صلاحیت کی بنیاد پر یہ ممکن ہے کہ انہیں مختلف ٹشوز میں ڈھال کر جسم کے اندر متاثرہ اعضاء کی مرمت اور بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل سائنسدان سٹم سیلوں کی مدد سے ہڈی کو ٹشوز کے ساتھ جوڑنے والے رسی نما اعضاء (tendons) جوڑوں میں پائی جانے والی کر کری لچکدار ہڈیاں (cartilages) اور بلیڈر جیسے قدرے سادہ انسانی اعضاء بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ امپیریل کالج لندن کے امراض قلب کے پروفیسر مگدی یعقوب عرصے سے ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن کا مقصد انسانی دل کی پیوند کاری کے لیے عطیہ میں دیے جانے والے اعضاء میں کمی کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ اپنی بات چیت میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی سٹم خلیوں کی مدد سے مکمل دِل بنایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا’ یہ ایک خاصا بڑا منصوبہ ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اندازاً بتاؤں تو میں کہوں گا کہ اس کام میں دس برس لگ سکتے ہیں۔‘ پروفیسر مگدی یعقوب کی ٹیم نے دل کا والوو بنانے کے لیے جو سٹم سیل استعمال کیے وہ انہوں نے ہڈیوں کے گودے سے نکالے اور پھر ان کی پرورش کی۔ اس عمل کے ذریعے وہ تین سینٹی میٹر چوڑا دل کے والوو کے برابر کا ایک ٹشو بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ آئندہ کچھ ماہ میں مصنوعی طریقہ سے بنائے ہوئے یہ اعضاء بھیڑ یا سؤر جیسے جانوروں کے جسم میں لگا کر دیکھا جائے گا کہ یہ کام کرتے ہیں یا نہیں۔ |
اسی بارے میں امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص11 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||