قیلولہ ’دل کے لیے اچھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محققین کا کہنا ہے کہ دوپہر کو قیلولہ کرنے والے نوجوان افراد میں دل کی بیماری سے ہلاک ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یونان میں چھ سال کی جانے والی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جو ایک ہفتے کے دوران کم از کم تین دن دوپہر کو تیس منٹ تک آرام کرتے ہیں ان میں دل کی بیماری کا شکار ہونے کا خطرہ سینتیس فیصد کم ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قیلولہ کرنے سے لوگ ریلیکس ہو جاتے ہیں اور ان کے ذہنی دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ماہرین نے اس تحقیق کے دوران خراب صحت، عمر اور لوگوں کے جسمانی طور متحرک ہونے جیسے عوامل کو بھی مدِ نظر رکھا۔ اس تحقیق کے دوران ایسے 23681 مرد و زن کا معائنہ کیا گیا جن کی عمریں بیس سے چھیاسی سال کے درمیان تھیں اور انہیں پہلے دل یا کوئی اور خطرناک بیماری لاحق نہیں تھی۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جن معاشروں میں لوگ قیلولہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہاں دل کی بیماریاں کم ہوتی ہیں تاہم تحقیق سے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کو پتہ چلا کہ جو لوگ دوپہر کو تھوڑی دیر کے لیے نیند لیتے ہیں ان میں دل کی بیماری کا خطرہ قیلولہ نہ کرنے والے افراد کی نسبت چونتیس فیصد کم ہوتا ہے جبکہ دوپہر کو نصف گھنٹے تک سونے والے افراد میں یہ شرح سینتس فیصد ہے۔ قیلولہ کے عادی ملازمت کرنے والے افراد میں دل کی بیماری سے بچاؤ کی شرح چونسٹھ فیصد ہے جبکہ اس کےمقابلے میں وہ لوگ جو کوئی کام نہیں کرتے ان میں یہ شرح چھتیس فیصد ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر دمیتراس کے مطابق’ وہ ممالک جہاں دل کے بیماری سے ہلاکتوں کی شرح کم ہے وہاں لوگ عموماً دوپہر کو قیلولہ کنرے کے عادی ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے لیکن اگر دیگر تجربات سے بھی یہ بات ثابت ہوئی تو یہ دل کی بیماریاں کم کرنے کا ایک مفید طریقہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا کوئی ’سائیڈ ایفیکٹ‘ بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بے خوابی: دماغی خلیے بننا بند10 February, 2007 | نیٹ سائنس امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص11 November, 2006 | نیٹ سائنس ’دل خود اپنا علاج کر سکتا ہے‘16 November, 2006 | نیٹ سائنس کم نیند، جگر کےامراض 28 May, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||