BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو:چھیاسٹھ رہا، چھ تاحال قید

گوانتانامو بے
’حراستی مرکز کے قیام کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے‘
انسانی حقوق کے بارے میں پاکستان کی سینٹ کی قائمہ کمیٹی نےگوانتانامو بے میں امریکہ کے حراستی مرکز کو انسانی حقوق اور تہذیب کے چہرے پر ایک بدنما داغ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مُطالبہ کیا ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ گوانتاناموبے میں قید چھیاسٹھ پاکستانی وہاں سے رہا ہو چکے ہیں جبکہ وہاں پر اب بھی چھ پاکستانی قید ہیں۔

اجلاس میں پاکستان کے انسانی حقوق ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ ان چھ پاکستانیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

سینیٹر ایس ایم ظفر کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں گوانتانامو بے کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ اس حراستی مرکز کے قیام کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور وہاں پر زیرِ حراست افراد سے بدترین سلوک کیا جا رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس قسم کے قید خانے نہیں ہونے چاہیے۔

اجلاس میں بگرام ائر بیس پر پاکستانی خاتون کو چار سال تک قید رکھنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل رفیع الزماں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے اس ضمن میں افغان حکومت کو تحریری طور پر مطلع کیا تھا لیکن وہاں سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کابل اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانوں سے رابطہ کر کے اس حوالے سے معلومات اکٹھی کی جائیں۔

سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ حکومت لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات بھی اکھٹی کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کا کہنا ہے کہ ابھی تک پانچ سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے عزیزو اقارب پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔

واضح رہے کہ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے بازیابی کے حوالے سے عوام جلد خوشخبری سنے گی لیکن تاحال ایسا نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
’قیدی تخت لاہور کے‘
15 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد