بھائی کی بازیابی کے لیے عوام سے اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک مقامی غیر حکومتی تنظیم کے مغوی سربراہ کے اہل خانہ نے انوکھا انداز اپناتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے شہر کے وسط میں ایک بڑا اشتہاری بورڈ نصب کرکےحکومت کی بجائے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔ پشاور کے راحت آباد کے علاقے سے تقریباً ستر دن قبل مبینہ طور پر اغواء کیے جانے والے چھیالیس سالہ شاکر اسحاق کےگھر والوں نے حکومتی کوششوں سے مایوس ہوکر شہر کی مصروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر اشتہاری بورڈ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بورڈ پر مغوی کے بھائی عوام سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ ہمارا بھائی اغواکاروں کی قید میں ہیں، ہم بے بس ہیں، اے دین کے متوالو،اے اسلام کے جیالو اور قرآن کے رکھوالو ہماری مدد کو آؤ ، ہمارے بھائی کو آزاد کرانے میں ہماری مدد کرو۔، مغوی کے بھائی وقار اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی شاکر اسحاق کو جو تنظیم برائے فروغ آگاہی و اصلاحات کے سربراہ ہیں تقریباً ستر دن قبل دفتر کے سامنے اغواء کیا گیا تھا اور آج تک ان کا ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ ان کے بقول شاکر اسحاق کی تنظیم صوبے میں تقریباً اسی پرائمری سکولوں میں غریب اور یتیم بچوں کو مفت تعلیم فراہم کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا شمار صوبہ سرحد کے معروف کاروباری خاندانوں میں ہوتا ہے اور ان کی کسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ وقار اسحاق کے مطابق ان ستر دنوں کے دوران کسی بھی اغواء کار گروپ نے ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہےجس کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کی زندگی کے حوالے سے مزید تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول’ ہم نے پولیس کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کوئی اطمینان بخش کاروائی نہیں ہوسکی ہے۔،
شاکر اسحاق کی بازیابی کے لیے گزشتہ کچھ دنوں سے صوبہ سرحد کی سولہ تجارتی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اور بدھ کو تقریباً تین سو کاروباری شخصیات نے گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے بعد میں گورنر سرحد سے ملاقات بھی کی جس میں بقول وقار اسحاق کے کہ’ گورنر کے مغوی کے ساتھ ذاتی مراسم بھی ہیں لیکن انہوں نے وہی یقین دہانی کرائی جو حکومت ایسے موقعوں پر کراتی رہتی ہے کہ انہیں بازیاب کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔، ان کے بقول ناکام حکومتی کاوشوں سے مجبور ہوکر انہوں نے پشاور کی مصرف شاہرا ہ پر اشتہاری بورڈ نصب کرکے مسلمان بھائیوں سے مدد کی اپیل کی ہے کیونکہ بقول ان کے’ فریاد کے لیے ہم کس کے پاس جائیں گے، آخر عوام کے دروازے پر ہی دستک دینی پڑی گی۔، ان کے مطابق کہ’ شاید اس سے پڑھ کر ہی کوئی خدا ترس جس نے انہیں اغواکاروں کی قید یا انہیں لے جاتے ہوئے دیکھا ہواطلاع دیں۔ان کے بقول یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اشتہاری بورڈ دیکھ کرخود اغواءکاروں کے دل میں رحم آجائے اور انہیں رہا کردیں۔، شاکر اسحاق کی بازیابی کے لیےصوبہ سرحد کے اخبارات میں روزانہ اپیل کے اشتہارات چھپتے رہتے ہیں۔ مغوی کے بھائی وقار اسحاق نے شہر میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی چکر میں بڑی بڑی کمپنیوں کی درجنوں رنگا رنگ اشتہاری بورڈوں کی وسط میں سیاہ رنگ کابورڈ نصب کرکے شاید بجا ہی کہا کہ’ ہم تو فریاد پر بھی پیسے دیتے ہیں۔، | اسی بارے میں پشاور: 25 عیسائی اغوا کر لیےگئے21 June, 2008 | پاکستان پشاور طالبان کے گھیرے میں29 June, 2008 | پاکستان پشاور پولیس پر حملہ، چار ہلاک09 June, 2008 | پاکستان باڑہ میں دھماکہ، سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان خبیر ایجنسی: آپریشن کی مخالفت30 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||