پشاور: 25 عیسائی اغوا کر لیےگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم مسلح افراد نے ایک تقریب پر دھاوا بول کر عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے پچیس افراد کو اغواء کرلیا ہے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ عیسائی برادری کے ان پچیس افراد کو پشاور کے اکیڈمی ٹاؤن کے علاقے میں واقع ان کی کالونی سے بعض مسلح افراد نے اس وقت اغواء کیا ہے جب وہ اپنی کسی تقریب میں شریک تھے۔ ان کے بقول اغواء کے بعد ان افراد کو قبائلی علاقے کی طرف لیجایا گیا ہے ۔ان کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر اعلی حیدر خان ہوتی نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ قبائلی ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ سے رابطہ کرکے ان افراد کو مذاکرات کے ذریعے بازیاب کروائیں۔ وزیر اعلی نے چیف سیکرٹری کو یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں مغویان کی رہائی کے لیے انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ نےانسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید کو یہ ہدایت کی کہ اس علاقے کے ایس ایس پی، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او اور ماتحت عملے کو فی الفورمعطل کر دیا جائے۔ میاں افتخار کا مزید کہنا تھا کہ انہیں پتہ ہے کہ اغواء کار کون لوگ ہیں تاہم سردست اس بارے میں کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق عیسائی برادری کے افراد کو اغواء کا مقصد عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کوعالمی سطح پر بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے کیونکہ بقول ان کے اغواء کار جانتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری اقلیتوں کے مسئلے کو بہت سنجیدہ لیتی ہے۔صوبائی حکومت کو شک ہے کہ ان ا افراد کو پشاور سے متصل قبائلی علاقے خیبر ایجنسی منتقل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی ایسا واقعہ ہوا ہو کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو اتنی بڑی تعداد میں اغواء کیا گیا ہو۔
افغانستان اور پاکستان میں گزشتہ ساڑھے چھ سال سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں دونوں ممالک میں طالبان، مبینہ جرائم پیشہ گروہوں اور دیگر مقامی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کئی علاقوں میں حکومتی عملداری تقریباً ختم ہوچکی ہے بلکہ صوبہ سرحد میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سخت عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس سے ایک سال قبل بھی متحدہ مجلس عمل کی دورِ حکومت میں ضلع چارسدہ میں آباد عیسائیوں کو مبینہ خطوط کے ذریعے علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد کئی عیسائی گھرانوں نے علاقے سے نقل مکانی کر لی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں طالبان کی مبینہ سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور شہر کے چاروں طرف واقع علاقوں میں طالبان کی موجودگی کی وجہ سے پشاور اس وقت ایک قسم طالبان کے ’محاصرے’ میں ہے۔ | اسی بارے میں سفارتکار طارق عزیز الدین کی رہائی17 May, 2008 | پاکستان کراچی:’عیسائیوں کے قاتل گرفتار‘26 February, 2008 | پاکستان سفیر کی رہائی، طالبان کی شرائط20 April, 2008 | پاکستان ایس پی چمن اور تین محافظ اغواء23 February, 2008 | پاکستان یواین اہلکاروں کا اغواءاور بازیابی21 April, 2008 | پاکستان مہمند: چار مغویوں کی بازیابی03 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||