BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایس پی چمن اور تین محافظ اغواء

بلوچستان فائل فوٹو
محکمہ تعلیم کے افسر کی بازیابی کے لیے جمعہ کو علاقے میں کارروائی کی گئی تھی
بلوچستان کے علاقے چمن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تین محافظوں سمیت قلعہ عبداللہ کے قریب اغواء کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

قلعہ عبداللہ کا علاقہ چمن اور کوئٹہ کے درمیان واقع ہے جہاں سنیچر کی صبح سے مقامی لوگوں نے سڑک کو آمد و رفت کے لیے بند کر رکھا تھا اور پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

قلعہ عبداللہ کے پولیس افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح ایس پی سلیم مروت چمن سے کوئٹہ مظاہرین سے بات کرنے گئے تو انہیں اسلحہ کے زور پر محافظوں سمیت اغواء کر لیا گیا ہے۔

وزیر خان ناصر کے مطابق سلیم مروت کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

چمن سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی کرائمز برانچ نے جمعہ کو محکمہ تعلیم کے افسر کی بازیابی کے لیے اسی علاقے میں کارروائی کی تھی اور کچھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

لوگوں نے بتایا ہے کہ سنیچر کا مظاہرہ انہی افراد کی بازیابی کے لیے کیا جا رہا تھا کہ اس دوران ایس پی سلیم مروت وہاں پہنچے جنہیں تین محافظوں سمیت اغواء کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس نے کوئٹہ میں ٹریفک پولیس پر حملے کے حوالے سے کم سے کم سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پولیس حکام کے مطابق پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

جمعہ اور جمعرات کی کارروائیاں
 جمعہ کو سوئی میں اٹھارہ انچ قطر کی ایک پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا اور جمعہ کی رات ڈیرہ بگٹی اور جعفر آباد کے سرحدی علاقے دیناری پٹ میں پولیس کی ایک چوکی پر راکٹوں اور دیگر اسلحے سے حملہ کیا گیا ہے

یاد رہے دو روز پہلے کلی اسماعیل میں نا معلوم افراد نے ٹریفک پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین اہکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے قبول کی تھی۔

ادھر جمعہ کو نامعلوم افراد نے سوئی میں اٹھارہ انچ قطر کی ایک پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور جمعہ کی رات ڈیرہ بگٹی اور جعفر آباد کے سرحدی علاقے دیناری پٹ میں پولیس کی ایک چوکی پر راکٹوں اور دیگر اسلحے سے حملہ کیا گیا ہے جس میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

خود کو ایک اور مسلح کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر ان حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی: چار ہلاک تین زخمی
24 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد