BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 06:55 GMT 11:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں

سندھ میں ڈاکوؤں کے درجنوں گروہ برسوں سے اغواء برائے تاوان کی صنعت سےوابستہ ہیں
سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ حکومتی رپورٹوں کےمطابق صوبے بھر سے تیس کے قریب افراد کو حالیہ دنوں میں تاوان کے لیے اغواء کیا گیا ہے۔مگر مغویوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے ڈاکوؤں کے خلاف نان سٹاپ پولیس آپریشن شروع کیا جائے گا اورحسب ضرورت رینجرز اور فوج کی مدد طلب کی جائے گی۔

سرکٹ ہاؤس سکھر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا نے کہا کہ مجموعی طور پر صوبے میں امن امان کی صورتحال اطمینان بخش ہے مگر لیاری اور شکار پور کے علاقوں میں حالات بدترین ہیں اور وہ وزیرداخلہ کی حیثیت میں اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

سندھ میں حالیہ دنوں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نوشہرو فیروز ضلع کی حدود مورو سے ائرفورس کے سکواڈرن لیڈر علی محمد نیازی کو ڈاکوؤں نے اغوا کرلیا ہے ۔جبکہ سیہون کی تحصیل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاصی معین الدین کو بھی تاؤان کے لیے اغوا کیا گیا ہے۔

اس سے چند روز قبل سکھر میں اپنے ہیڈکوارٹر کے قریب سیر کرتے ہوئے ایک رینجرز میجر کو اغوا کیا گیا تھا جسے پولیس نے مقامی بااثر افراد کی کوششوں سے بازیاب کروالیا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنوعاقل چھاؤنی میں فوجی افسران سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں فوج ان کی بھرپور مدد کرے گی۔ان کےمطابق پولیس کے پاس بکتر بند گاڑیوں اور اسلحے کی کمی ہے جو فوج کی مدد سے پوری کی جائےگی۔

وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ حکومتی رپورٹوں میں انہیں تیس مغویوں کا بتایا گیا ہے جو تعداد حتمی نہیں اور سرے سےغلط بھی ہوسکتی ہےکیونکہ بقول ان کے کئی لوگ پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرواتے کیونکہ اس سے انہیں معاملہ بگڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

انہوں نے کراچی میں انگریزی اخبار ڈان کی ایک خاتون صحافی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو سکول چھوڑنےجا رہی تھیں کہ انہیں ایک ڈاکو نے اغوا کرلیا۔ بچہ تو سکول کی طرف بھاگ گیا مگر خاتون گاڑی سمیت اغوا ہوگئیں۔ خاتون کے شوہر اے بی این ایمرو بینک میں کام کرتے تھے انہوں نے چند گھنٹوں میں بیس لاکھ تاوان ادا کیا اور اپنی بیوی کو بازیاب کروا لیا۔ وزیر کےمطابق دونوں میاں بیوی نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کروائی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اغوا برائے تاوان جیسا بڑا جرم سیاسی اور بااثر شخصیات کی پشت پناہی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا پولیس آپریشن شکارپور سےشروع کیا جائےگا اور وہ صرف ڈاکوؤں کےگروہوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والے وڈیرے اور سرداروں کو بھی گرفتار کیا جائےگا۔

سندھ میں ڈاکوؤں کے درجنوں گروہ برسوں سے اغواء برائے تاوان کو واداتوں میں ملوث ہیں۔ جرائم پیشہ افراد نے اندرون سندھ کے شہروں اور دریائے سندھ کےکناروں سے جنگلات میں اپنا ایک نیٹ ورک مضبوط بنا دیا ہے۔ان کےمخبروں اور پشت پناہی کرنے والوں میں علاقے کے بااثر وڈیرے اور بعض اراکین اسمبلی بھی شامل رہے ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ کےمطابق ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرنے والےافراد کی سیاسی وابستگی کو نہیں دیکھا جائےگا۔ کیونکہ ان کے بقول ماضی میں مسلم لیگ قاف سندھ سے وابستہ افراد کا ذریعہ معاش بدمعاشی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد