کراچی: مزید دو مبینہ ڈاکو نذرِ آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں سنیچر کو ایک اور واقعہ میں مشتعل ہجوم نے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں دو مبینہ ڈاکوؤں کو تشدد کے بعد نذرِ آتش کردیا۔ پولیس نے مداخلت کرکے انہیں بچا کر ہسپتال منتقل کیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ان میں سے ایک ہلاک ہوچکا تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ اس نوع کا دوسرا واقعہ ہے جس میں لوگوں نے ڈاکوؤں کو موقع واردات پر خود ہی سزا دینے کا عمل شروع کردیا ہے۔ ڈاکو ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کو کراچی کے علاقے رنچھوڑ لین کے علاقے ٹمبر مارکیٹ میں مشتعل افراد نے تین ڈاکوؤں کو نذرآتش کردیا تھا اور وہاں پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے اور تین افراد کو قتل کرنے کے الزام میں سترہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ایک مسافر بس میں دو افراد مسافروں سے ان کی نقدی، موبائل فون اور دیگر اشیاء گن پوائنٹ پر چھننے کے بعد جیسے ہی فائیو سٹار چورنگی پر بس سے اترے تو مسافروں نے شور مچادیا۔ ڈی آئی جی غربی علیم جعفری نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا کہ مبینہ ڈاکوؤں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور پھر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب کہ چند لوگوں نے ان پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگادی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے دو اہلکار جو موٹرسائیکل پر گشت کررہے تھے ہجوم دیکھ کر وہاں گئے اور انہوں نے ڈاکوؤں کو جلنے سے بچانے کی کوشش کی اور دونوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
سول ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ دونوں میں سے ایک شخص ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا تاہم دوسرے کی حالت تشویشناک ہے اور اسے بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ڈی آئی جی علیم جعفری نے کہا کہ جن افراد نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ان واقعات پر ردِ عمل کے طور پر شہریوں نے کہا کہ اگر پولیس تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے گی تو عوام سڑکوں پر فیصلہ کریں گے۔ ایک شہری نے دعوٰی کیا کہ عوام کی جانب سے ڈاکوؤں کو مارنے کے بعد شہر میں وارداتوں کی شرح کم ہوئی ہے۔ جبکہ ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ یہ کوئی لابی ہے جو اس طرح کا عمل کر رہی ہے اور اگر حکومت نے اس رجحان کو نہ روکا تو یہ واقعات گلی گلی رونما ہوسکتے ہیں اور اس سے کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایک سینئر صحافی سید رضا حسن جو امن وعامہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پولیس پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جانا، انصاف کا جلد نہ ملنا، مہنگائی، بے روزگاری ایسے عوامل ہیں جو لوگوں میں جھنجلاہٹ کا سبب بن رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ان عوامل سے ایک جانب جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب اس کا عوامی ردعمل بھی سامنے آرہا ہے اور صورتحال مزید خرابی کی جانب گامزن ہے۔ سنیچر کو ہی کراچی کے علاقے یوپی موڑ پر ایک شخص کو دو ڈاکوؤں نے روک کر لوٹنے کی کوشش کی جس پر اس نے اپنی پستول سے فائر کرکے ایک ڈاکو کو ہلاک کردیا جبکہ دوسرا فرار ہوگیا۔ کراچی میں سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اوسطاً روزانہ دو سو سے زیادہ موبائل فون اور 30 سے زیادہ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں چھپین لی جاتی ہیں جبکہ گھروں میں ڈکیتی اور دیگر جرائم کی تعداد الگ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||