مزدور فائرنگ،ایم پی اے زیرِحراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد پولیس نے ہڑتالی مزدوروں پر فائرنگ کے الزام میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے رکن پنجاب اسمبلی میاں اجمل آصف کو حراست میں لے لیا ہے۔ تھانہ ٹھیکریوالہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر عمران کاہلوں نے اس گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان چودہ افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ فیصل آباد کے صنعتی علاقے سدھار میں منگل کو ہونے والی اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں درج کیاگیا ہے جس میں ہونے والی فائرنگ سے بارہ ہڑتالی مزدور زخمی ہوئے تھے۔ سدھار میں دوسرے روز بھی کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ میاں اجمل آصف نے گرفتاری سے پہلے ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ ان کے مخالف سیاستدانوں کی سازش ہے اور مزدور ان کے آلہ کار بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی فیکٹری میں مزدوروں کے علاوہ ان کے رشتہ دار بھی کام کرتے ہیں اور اگر ان کےگن مین فائرنگ نہ کرتے تو انہیں جان سے مار دیا جاتا۔ ایم پی اے کی گرفتاری کے بعد ان کے والد ارشاد پہلوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی گرفتاری ایک سیاسی انتقامی کارروائی ہے کیونکہ ان کے بیٹے نے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر رانا آفتاب احمد خان کو شکست دی تھی۔
یاد رہے کہ یہ ہنگامہ منگل کو فیصل آباد کے صنعتی علاقے سدھار میں اس وقت شروع ہوا تھا جب پاور لومز فیکٹریوں کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافہ نہ کرنے پر ہڑتال کردی اور کارخانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ اسی دوران دو کارخانوں کو آگ لگا دی گئی جن میں سے ایک جزوی اور دوسرا مکمل طور پر جل گیا۔ محنت کشوں کے نمائندہ میاں قیوم کا کہناہے صنعتی یونٹ کی حدود سے محنت کشوں پر فائرنگ ہوئی جس سے بارہ مزدور زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت نازک ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے بھی کارخانوں کی چھتوں اور سڑکوں گلی کے کونوں میں مورچہ زن ہوکر مزدوروں پر آنسوگیس پھینکی اور فائرنگ کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہوائی فائرنگ تھی اور مزدور پسپا ہونے کی بجائے پتھراؤ کرتے رہے۔ پولیس اور مزدوروں کے درمیان لڑائی جھگڑا آٹھ گھنٹے جاری رہا تھا جس کے بعد صوبائی وزیر محنت و صنعت اشرف سوہنا نے فریقین میں مذاکرات کرائے اور ان کی یقین دہانیوں کے بعد مزدوروں نے احتجاج ختم کر دیا تھا۔ صوبائی وزیر محنت اشرف سوہنا نے الائیڈ ہسپتال جاکر زخمی مزدوروں کی عیادت بھی کی۔ بدھ کو تین کے سوا دیگر تمام مزدوروں کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر محنت نے مزدوروں کو یقین دلایا کہ اس برس سولہ مئی کو مزدوروں سے کیے جانے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور زخمی مزدوروں کو پچاس ہزار روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں یکم مئی پر جلسے اور ریلیاں01 May, 2008 | پاکستان سرحد پر بلوچ تاجروں کا احتجاج05 May, 2008 | پاکستان بیروزگاروں کی تعداد میں کمی06 May, 2008 | پاکستان وہاڑی:’نابینا طالبعلم تشدد سے ہلاک‘29 May, 2008 | پاکستان تشدد سے موت، استاد جیل میں30 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||