BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 May, 2008, 22:15 GMT 03:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد سے موت، استاد جیل میں

قاری ضیاء الدین
قاری ضیاء کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں، پولیس کے مطابق، انہوں نے اقبالِ جرم کیا
پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی میں نابینا طالبِ علم کی موت کے مبینہ ذمہ دار قاری ضیاء الدین کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا چالان سات دنوں میں عدالت میں پیش کر دیا جائے گا تاکہ انہیں جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔

قاری ضیاء کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں، پولیس کے مطابق، انہوں نے اقبالِ جرم کیا۔

قاری ضیاء نے پولیس کو بتایا ہے کہ بدھ کی شام کو بارہا کوششوں کے باوجود ان کے نابینا طالبِ علم محمد عاطف کو سبق یاد نہ ہوا جس کے بعد انہوں نے اسے پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکانے کا فیصلہ کیا۔

’جب عاطف کو پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو ایک نمازی نے آ کر عاطف کو نیچے اتروایا۔ اس وقت عاطف کی حالت نازک تھی۔ دودھ سوڈا پلانے کے باوجود اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہوئی۔ رات بھر میں عاطف کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا رہا لیکن جمعرات کی صبح آخرکار اس کی موت واقع ہو گئی۔ میں پہلے بھی دوسرے مدارس میں بچوں کو ایسے سزا دیتا رہا ہوں لیکن عاطف بہت کمزور تھا اس لیے اس کی موت ہوئی۔‘

تھانہ سٹی وہاڑی کے سب انسپکٹر محمد افضل نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عاطف کے جسم پر چوٹ کے دس نشانات ملے ہیں اور اس کی موت سر کی چوٹ اور دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

محمد عاطف کے ہم مکتب اور کزن عامر نے اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ پنکھے سے اتارنے کے بعد عاطف بری طرح چلا رہا تھا۔ قاری صاحب نے اسے پھر سے ڈنڈے مارے جس کے بعد وہ سہم کر چپ کر گیا۔ کچھ ہی دیر بعد عاطف بے ہوش ہو گیا اور قاری صاحب نے اسے الگ کمرے میں لٹا کر باہر سے تالا لگا دیا۔اگلے دن دوپہر ایک بجے کے قریب قاری صاحب کمرے کی چابی میرے حوالے کر کے مدرسے سے چلے گئے۔ جب میں نے کمرہ کھولا تو وہاں عاطف کی لاش پڑی تھی۔

سات سالہ محمد عاطف کا تعلق وہاڑی شہر کے نواحی گاؤں اسلام آباد سے تھا اور اس کے والدین مزدوری کرتے ہیں۔ عاطف چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے بہاولپور کے نابینا سکول میں داخل کروانے کی کوشش کی لیکن کم عمری کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا۔ چنانچہ انہوں نے عاطف کو قاری لطیف اللہ والے مدرسے سے قرآنِ پاک حفظ کروانے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد