BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میانوالی میں پرنسپل کی پٹائی

 پرنسپل رشید احمد
رشید احمد کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ ہی باقی ہیں
پنجاب کے پسماندہ اور نیم قبائلی ضلع میانوالی میں کچھ بااثر افراد نے علاقے کے سب سے بڑے سرکاری ہائی سکول کے پرنسپل کے دفتر میں گھس کر مبینہ طور پر انہیں مارا پیٹا ہے لیکن پولیس نے پرنسپل کے خلاف ہی ’غیر شائستہ‘ ٹیلی فون کالز کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مارپیٹ کا شکار ہونے والے پرنسپل رشید احمد نے حال ہی میں دینی مدارس کی مبینہ طور پر میانوالی کے محکمہ تعلیم میں جعلی اسناد کی بنیاد پر بیسیوں نیم خواندہ افراد کی بطور ’عربی ٹیچر‘ تقرریوں کی بھی نشاندہی کی تھی۔

رشید احمد نے بتایا کہ عربی ٹیچر بھرتی ہونے والے بیشتر افراد نے صوبہ سرحد کے ضلع مردان کے علاقے پارہوتی کے ایک دینی مدرسے’شہادۃ العالمیہ‘ سے ڈبل ایم اے، عربی اور اسلامیات، کی اسناد حاصل کر رکھی ہیں جبکہ ان میں سے اکثر افراد بنیادی طور بمشکل میٹرک پاس ہیں اور بعض تو یہ بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کرنے پر پتہ چلا ہے کہ ’شہادۃالعالمیہ‘ نام کا کوئی مدرسہ مردان کے علاقے میں وجود ہی نہیں رکھتا۔

 میں تو بس رشید احمد کو سمجھانے گیا تھا کہ وہ خواتین سے بات چیت کرنے سے باز آجائے۔ وہاں تو تو میں میں ہوگئی اور آپ سمجھیں نا کہ میانوالی ایک قبائلی علاقہ ہے۔
مشتاق خان

بطور سربراہِ ادارہ انہوں نے اپنے سکول میں اسی ’مدرسہ‘ کی اسناد کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے چار ’اساتذہ‘ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو علاقے کے بعض بااثر سیاسی افراد نے ان پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اس معاملے کو نہ چھیڑیں۔ تاہم انہوں نے تادیبی کاروائی جا رکھی جس کی بنیاد پر اب تک دو افراد کو برخاست کیا جا چکا ہے۔

پرنسپل رشید احمد کے مطابق چند روز قبل وہ اپنے دفتر میں معمول کے کام میں مصروف تھے کہ مشتاق خان نامی ایک شخص اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے دفتر میں آیا اور مارپیٹ شروع کردی۔ حملہ آور بعد میں انہیں گھسیٹتے ہوئے سکول کےمیدان میں لے گئے اور مار مار کر نیم بے ہوش کر دیا۔

مشتاق خان کے بارے رشید احمد نے بتایا کہ وہ چند با اثر شخصیات کے رشتہدار ہیں اور میانوالی میں قائم فنی تعلیم کے سرکاری اداروں کے انتظامی بورڈ کے اعزازی چیئر مین بھی ہیں۔

رشید احمد نے تھانہ سٹی میانوالی میں واقع کی تحریری اطلاع کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔ تو پولیس نےان کی درخواست قانونی رائے کے لیئے ’لیگل برانچ‘ بھجوا دی اور ایک روز بعد انہیں مطلع کیا کہ مشتاق خان نے بھی ایک درخواست دی ہے جس میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ لڑکیوں کے فنی تعلیم کے ادارے میں فون کرتے ہیں اور بعض اساتذہ اور طالبات کو تحائف بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔

دونوں درخواستوں پر لیگل برانچ سے ’قانونی رائے‘ آنے کے بعد پولیس نے جمعرات کے روز پرنسپل رشید احمد کے خلاف ٹیلی گرافک ایکٹ کی دفعہ پچیس بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ رابطہ کرنے پر میانوالی سٹی تھانہ کے انچارج ذوالفقار چھینہ نے دعویٰ کیا کہ مشتاق خان کی درخواست پہلے آئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ رشید احمد کا بیان بعد میں مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

 عربی ٹیچر بھرتی ہونے والے بیشتر افراد نے صوبہ سرحد کے ضلع مردان کے علاقے پارہوتی کے ایک دینی مدرسے’شہادۃ العالمیہ‘ سے ڈبل ایم اے، عربی اور اسلامیات، کی اسناد حاصل کر رکھی ہیں جبکہ ان میں سے اکثر افراد بنیادی طور بمشکل میٹرک پاس ہیں اور بعض تو یہ بھی نہیں ہیں۔
رشید احمد

میانوالی کے ضلعی پولیس افسر زراعت کیانی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بس اتنا کہا کہ ’میں مجبور ہوں‘۔

مشتاق خان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ رشید احمد علاقے کی تعلیم یافتہ خواتین کو ایسی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے اجلاسوں میں آنے کے لیئے اکساتے ہیں جو خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی دعویدار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’ میں تو بس رشید احمد کو سمجھانے گیا تھا کہ وہ خواتین سے بات چیت کرنے سے باز آجائے۔ وہاں تو تو میں میں ہوگئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھیں نا کہ میانوالی ایک قبائلی علاقہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ میانوالی ایک قبائلی علاقہ ہے اور یہاں اس طرح کی ’حرکتوں‘ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا دینی مدرسے کی جعلی اسناد پر بھرتی ہونے والے افراد سے کوئی تعلق ہے۔

اسی بارے میں
ہزاروں دیہات بغیر سکول کے
02 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد