BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 June, 2008, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی کا خاتمہ مل کر: پاک، انڈیا

پاکستان اور انڈیا کے وزرائے خارجہ
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ستائیس جون کو بھارت کا پہلا دورہ کر رہے ہیں
پاکستان اور بھارت نے دہشت گردی اور تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان انسداد دہشت گردی کے بارے میں مشترکہ طریقۂ کار کے حوالے سے مذاکرات کا تیسرا دور منگل کے روز وزارت خارجہ میں ہوا جس میں دونوں اطراف سے دہشت گردی میں ملوث مختلف تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ان تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا۔

یقین دہانی
 پاکستان کی طرف سے بھارتی وفد کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی تنظیم کوکسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے
مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈشنل سیکرٹری خارجہ مسعود خالد نے کی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری وویک کاٹجو نے کی۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ہوانا میں بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد یہ طے پایا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طریقۂ کار تیار کیا جائے۔

اس مشترکہ طریقۂ کار کے حوالے سے پہلا اجلاس اسلام آباد میں دوسرا نئی دِلّی میں ہوا۔ اجلاس میں فریقین نے دونوں ملکوں کو دہشت گردی کی وارداتوں میں مطلوب افراد کی فہرست کا بھی تبادلہ کیا۔

مذاکرات میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سمجھوتا ایکسپریس پر ہونے والے حملوں کی تفتیش کے بارے میں پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ بھارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور جوں جوں اس میں پیش رفت ہوگی تو پاکستان کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس حملے میں دو سو کے قریب پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے۔

سمجھوتا تفتیش
 سمجھوتا ایکسپریس پر ہونے والے حملوں کی تفتیش کے بارے میں پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ بھارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور جوں جوں اس میں پیش رفت ہوگی تو پاکستان کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا
ایک اہلکار
بھارت کی طرف سے جیش محمد اور دیگر کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تاہم پاکستان کی طرف سے بھارتی وفد کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی تنظیم کوکسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اجلاس میں بھارت کی طرف سے جے پور، اجمیر اور حیدرآباد میں ہونے والے بم دھماکوں کے حوالے سے بھی بات کی گئی اور ان دھماکوں میں ملوث مبینہ افراد کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ستائیس جون کو بھارت کا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ اُدھر وزرات خارجہ کی طرف سے ان مذاکرات کے بارے میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف مشرکہ طریقۂ کار کے حوالے سے گزشتہ دو اجلاسوں کے بعد جو اقدامات تجویز کیے گئے تھے اُن کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد