انڈیا کا بندر پاکستانی صحرا میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو محاورہ ہے کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے، مگر اس کے برعکس ایک بندر نے صحرا کا رخ کیا ہے۔ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بھارتی بندر تفریح کا باعث بنا ہوا ہے۔ تقریبا دس روز قبل یہ بندر بھارتی گجرات سے سرحد عبور کرکے پاکستان کے علاقے ننگرپارکر میں داخل ہوگیا تھا۔ ننگر پارکر قدیمی اور تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے، پاکستان کے قیام سے قبل اس کے ریاست گجرات سے تجارتی تعلقات تھے ۔ انڈیا کی ریاست گجرات کا شہر احمد آباد یہاں سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور واقع ہے۔ کسی زمانے میں دونوں شہروں میں بس سروس بھی چلائی جاتی تھی۔ ننگرپارکر میں یہ بندر گلن کھوسو نامی ایک شخص کے گھر کے آنگن میں موجود درخت پر دو روز سے موجود ہے۔ صحرا میں یہ جانور ناپید ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اس میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ گلن کھوسو کا کہنا ہے کہ لوگوں نے یہاں تک پہنچتے پہنچتے بندر کو پتھر مارے ہیں، جس وجہ سے وہ لنگڑا کر چل رہا ہے مگر نیچے اترنے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ اس بندر کو مارنے کے لیے اسلحہ سمیت آئے تھے ان کا خیال تھا کہ یہ بچوں پر حملہ کرے گا مگر انہوں نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس کردیا ہے، مگر ان کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے جو بندر دیکھنے آرہے ہیں۔ گلن کھوسو کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھانے پینے کے لیے کافی چیزیں لاکر یہاں رکھی تھیں مگر بندر نہیں اترا اور درخت کے پتے کھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ سرحدی گاؤں رہاڑکو کے کسانوں اور چرواہوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بندر کے ساتھ ایک مادہ کو بھی دیکھا تھا جو ایک دن اس کے ساتھ مگر بعد میں واپس چلی گئی مگر یہ بندر اس کے ساتھ واپس نہیں گیا۔ ننگرپارکر صحرائے تھر کا پہاڑی علاقے ہے اور یہاں پر کارونجہر پہاڑ بھی موجود ہے۔ ننگرپارکر کے بزرگ رہائشی نواز کھوسو کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے قبل تک سرحد پار سے بہت بڑی تعداد جنگلی جانور آتے تھے، اس وقت اس علاقے میں پہلے باڑ نہیں لگی ہوئی مگر دو سال قبل یہ باڑ لگائی گئی جس وجہ سے اب یہ جانور بہت کم تعداد میں آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ماہ قبل ہرن،روجھ، جہنگلی گدھے سرحد پار سے یہاں پہنچ گئے مگر مقامی لوگوں نے ان کا شکار کرکے مارڈالا اور کس نے انہیں نہیں روکا۔ نواز کھوسو کا کہنا ہے کہ کارونجھر میں پہلے ہرن، روجھ، سائرس اور ہنس پائے جاتے تھے جو اس وقت نایاب ہوچکے ہیں بھارتی گجرات میں لوگ ان کا شکار نہیں کرتے اور قوانین پر عمل درآمد بھی ہوتا اس لیے وہاں یہ بڑی تعداد میں موجود ہے۔ کچھ سال قبل رن کچھ کے علاقے سے بھٹکا ہوا ایک چیتا بھی اس علاقے میں آگیا تھا، جس مقامی لوگوں نے ڈرا کر مار ڈالا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||