BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 June, 2008, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: دو نئے وزیر، بجٹ آج

سندھ اسمبلی(فائل فوٹو)
صوبائی حکومت کو کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے، جس میں کوئی قابل ذکر ہیوی ویٹ بھی شامل نہیں ہے
سندھ کابینہ میں متحدہ کے ایک وزیر سمیت مزید دو وزراء شامل کیے گئے ہیں جس کے بعد متحدہ کے وزراء کی تعداد چودہ ہوگئی ہے۔

گورنر ہاؤس میں پیر کو گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے متحدہ کے رکن اسمبلی سردار احمد اور پیپلز پارٹی کے رکن مظفر حسین شجرع سے حلف لیا۔

گزشتہ حکومت میں بھی سردار احمد ان کے پاس وزارت خزانہ کا قلمدان تھا، بعد میں انہیں ہٹا کر ایم اے جلیل کو مشیر مقرر کیا گیا تھا۔ اس اضافے کے بعد صوبائی اسمبلی میں اکاون نشستیں رکھنے والی ایم کیو ایم کے پاس اب چودہ وزراتیں اور دو مشیر ہیں۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں پیر کی شام صوبائی بجٹ پیش کیا جارہا ہے، اس بجٹ کا کل حجم دو سو پچھتر ارب روپے سے زائد بتایا جاتا ہے، جس میں ساٹھ ارب روپوں کا سالانہ ترقیاتی پروگرام بھی شامل ہے۔

صوبائی بجٹ میں وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں بھی بیس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

بجٹ میں بینظیر بھٹو یوتھ پروگرام بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا جائےگا، جس کے تحت بیروزگار نوجوانوں کو فنی تربیت اور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ جس کے لیے چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کو یونیورسٹی کا درجہ دینے اور سکھر میں انسٹیٹیوٹ آف یورلوجی اینڈ ٹرانس پلانٹ سینٹر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جائےگا۔ٹیوب ویل کے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کے لیے کاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے گی۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی جماعتوں نے جام مدد علی کو قائد حزب اختلاف نامزد کردیا ہے جن کا تعلق پیر پگاڑہ کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل سے ہے۔

پیپلز پارٹی کی نو منتخب حکومت کے قیام کے بعد اپوزیشن کی جماعتوں میں یہ تاثر عام تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا جائے گا مگر اسمبلی میں ان سے پیش آنے والے واقعات کے بعد وہ غیر اعلانیہ مدت تک بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

گزشتہ روز مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی
کے ایک مشترکہ اجلاس میں جام مدد علی کو اتفاق رائے سے قائد حزب اختلاف نامزد کیا گیا ہے جو سندھ کے سابق مرحوم وزیراعلیٰ جام صادق علی کے قریبی رشتیدار ہیں۔

صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد انیس ہے، جبکہ حکمران اتحاد ایک سو ستاون اراکین پر مشتمل ہے۔

صوبائی حکومت کو ایک قلیل اور کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے، جس میں کوئی قابل ذکر ہیوی ویٹ بھی شامل نہیں ہے۔

اسی بارے میں
سرحد کابینہ کی حلف برداری
02 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد