سندھ میں اب اکتالیس رکنی کابینہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی صوبائی کابینہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے تیرہ وزراء سمیت مزید بیس وزراء کو شامل کر لیا گیا ہے جس کے بعد ایم کیو ایم صوبائی حکومت کا باقاعدہ حصہ بن گئی ہے۔ گورنر ہاؤس میں جمعرات کی شام کو گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے ان بیس وزراء سے حلف لیا، جن میں پیپلز پارٹی کے بھی سات وزراء شامل ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے وزراء میں عادل صدیقی، رؤف صدیقی، صغیر احمد، شعیب بخاری، ڈاکٹر محمد علی شاھ، فیصل سبزواری، خالد بن ولایت، ڈاکٹر زبیر احمد، نادیہ گبول، رضا ہارون، عبدالحسیب، شیخ محمد افضل، عسکری نقوی اور دو مشیر خواجہ اظہار الحسن اور غلام حیدر راہو شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وزرا میں مخدوم امین فہیم کے صاحبزادے مخدوم جمیل الزماں، زاہد بھرگڑی، علی نواز شاہ، رفیق انجنیئر، علی مردان شاہ، آغا تیمور اور ڈاکٹر موہن لال شامل ہیں۔ بِیس وزراء کی شمولیت کے بعد صوبائی کابینہ اکتالیس اراکین پر مشتمل ہوگئی ہے۔ جس میں پانچ خواتین اور چار اقلیتی وزراء شامل ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد بدھ کو اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کو محکمۂ صحت، صنعت وتجارت، انفارمشین ٹیکنالوجی، ماحولیات اور متبادل توانائی، کھیل، نوجوانوں کے امور، دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ، اوقاف، بیورو آف سپلائیز اینڈ پرائسز اور انسانی حقوق کی وزارتیں دی گئیں۔ سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ وزارتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔اصل بات خِواہش اور نیت کی ہوتی ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ ق کی گزشتہ حکومت نے اتحادیوں کو راضی رکھنے کے لیے بیالیس اراکین پر مشتمل پر کابینہ تشکیل دی تھی، جس پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں تنقید کرتی رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبے میں اکثریتی جماعت ہونے کے بعد بھی ایک بڑی کابینہ بنائی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ’جج بحال نہ ہوئے تو کابینہ سے باہر‘22 April, 2008 | پاکستان 14 رکنی پنجاب کابینہ نے حلف اٹھایا22 April, 2008 | پاکستان سرحد: کابینہ میں پانچ مزید وزراء23 April, 2008 | پاکستان کوئٹہ: کابینہ کی تشکیل میں مشکل18 April, 2008 | پاکستان سندھ کابینہ نےحلف اٹھا لیا11 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||