شہباز: نو سال بعد آج پِھر وزیر اعلیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدرمیاں شہباز شریف اتوار کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا رہے ہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں لیکن عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اس وقت کے فوجی سربراہ پرویز مشرف نے ان کی حکومت ختم کر دی تھی۔ پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ شہباز شریف نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیحات میں امن و امان کا قیام، مہنگائی کا خاتمہ اور تعلیم اور صحت کے میدان میں انقلابی اقدامات ہیں۔ ججوں کی بحالی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا موقف سخت نہیں، بڑا واضح ہے کہ وہ جلد سے جلد ایک قرارداد کے ذریعے عدلیہ کو سن دو ہزار سات والی حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے لیکن ضمنی انتخابات میں ان کے کاغدات منظور ہوئے اور پھر وہ بھکر سے بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہوگئے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) صوبے کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی اور اس نے پیپلز پارٹی اور دیگر ارکان کی مدد سے دوست محمد کھوسہ کی قیادت میں صوبے میں حکومت قائم کی تھی۔ دوست محمد کھوسہ نے شہباز شریف کے صوبائی اسمبلی رکن منتخب ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور شہباز شریف کے بطور وزیر اعلیٰ حلف تک نگران وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔ | اسی بارے میں شہباز کا حلف، کھوسہ مستعفی06 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان شہباز کی اتوار کو حلف برداری06 June, 2008 | پاکستان شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج:شہباز، زرداری ملاقات 03 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||