’رئیسانی کو ایران کے حوالے نہ کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی شہری غلام حیدر رئیسانی کو ایران کے حوالے نہ کیا جائے۔ پاکستانی فورسز نے غلام حیدر رئیسانی کو گزشتہ سال بیس اگست کو ایرانی صوبۂ سیستان اور بلوچستان سے اکیس ایرانیوں کے اغواء کے الزام میں تربت کے علاقے مند سے سترہ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان نےپچیس مئی کو حیدر رئیسانی کو ایران لے جانے کی تیاریاں کی تھیں جس پر مختلف بلوچ تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ حیدر رئیسانی ابھی تک کوئٹہ میں زیر حراست ہیں۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمات ہیں اوران کو ایران کے حوالے کرنے کے خلاف ایک درخواست بلوچستان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ کوئٹہ میں غلام حیدر رئیسانی کی بیوی نے بتایا کہ غلام حیدر رئیسانی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے، وہ بے گناہ ہے۔ تاہم غلام حیدر رئیسانی کے کزن ظفر بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے سات مئی2008ءکو ایک حکمنامے کے ذریعے حکومت بلوچستان سے کہا ہے کہ غلام حیدر رئیسانی کو ایرانی حکومت کے حوالے کیا جائے۔ ظفر بلوچ کہ بقول ایرانی حکومت نے غلام حیدر رئیسانی کو ایرانی شہری ظاہر کیا ہے جبکہ وہ بلوچستان کے ایرانی سرحد کے قریب علاقہ ماشکیل کے رہائشی ہیں اور ان کے لوکل سرٹیفکیٹ‘ شناختی اور اور سکول سرٹیفکیٹ بھی دکھائے جو کوئٹہ کے بنے ہوئے ہیں۔ غلام حیدر رئیسانی کو ایران کے حوالے کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر حکومت پاکستان نے غلام حیدر رئیسانی کو ایران کے حوالے کیا تو وہاں مقدمہ چلائے بغیر ان کو پھانسی دیدی جائے گی۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے بلوچ نیشنل فرنٹ کے زیر اہتمام مظاہرین نے کوئٹہ میں ایرانی قونصلیٹ کو ایک یاداشت پیش کرنے کی کوشش کی تھی مگر حکام نے یاداشت لینے سے انکار کیا تھا۔ صادق رئیسانی کے مطابق ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ حیدر رئیسانی کا اصل نام عبدالحمید ریکی ہے جو ایرانی باشندہ ہے اور جندا اللہ کے مختلف مقدمات میں ایرانی حکومت کو مطلوب ہے۔ حیدر رئیسانی کے ساتھ گرفتار ہونے والے سولہ افراد میں سات کو کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رہا کر دیا ہے جبکہ حیدر رئیسانی سمیت نو دوسرے افراد ابھی تک ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں بند ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: تشدد میں چار ہلاک02 April, 2008 | پاکستان بلوچستان پر اے پی سی بلانے کا فیصلہ20 April, 2008 | پاکستان بلوچستان مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس آج23 April, 2008 | پاکستان بلوچستان میں بھوک ہڑتال، ریلیاں09 March, 2008 | پاکستان دھماکے سالگرہ، دو بلوچ رہنما لاپتہ30 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||