’پاکستان کی امداد پر نظرثانی کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر کارل لیون نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ’دہشتگردوں‘ کو افغانستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات نہیں کرتا تو امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی اور فوجی امداد پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ خطے کا تین روزہ دورہ کرنے کے بعد واشنگٹن لوٹنے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر کارل لیون نے کہا کہ امریکی حکام کو پورے طور پر یقین نہیں کہ پاکستانی حکومت اور خصوصاً فوج کے کچھ حصہ طالبان جنگجؤں کے افغانستان داخلے اور سرحد پار اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے اپنی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ کیسوں میں تو وہ دہشت گرودوں کی مدد بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے خفیہ ذرائع کی یہ اطلاعات ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان میں نیم فوجی دستوں فرنیٹر کور کو مضبوط کرنے کے لیے دی جانے والی امداد جاری رکھی جانی چاہیے۔ سینیٹر لیون ڈیموکریٹ پارٹی کے ان اراکین میں شامل ہیں جو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر دہشت گردی کے حملوں کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی دس ارب ڈالر کی امداد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ایک سرکرای رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کے باوجود قبائلی علاقوں میں دہشت گردی آزادانہ طور پر گھومتے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے یہ سرکردہ رکن جن کا امریکہ کے چھ سو ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری میں عمل دخل ہے پاکستان کو سات کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کو محدود کرنے کے حق میں ہیں جو قبائلی علاقوں میں تعینات فرنٹیر کور کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ کو اسلام آباد سے اجازت کے بغیر قبائلی علاقوں میں فضائی حملے کرنے چاہیں جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی میں ان کے ساتھی سینیٹر بن نیلسن نے امریکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی کمیں گاہوں کو نشانہ بنانے پر غور کرنا چاہیے۔ کارل لیون نے کہا کہ امریکہ کو بجائے پاکستان میں فوجیں بھیجنے کے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان پر ان خطرات کو دور کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ان خطرات کو دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتا تو پھر اس کو دی جانے والی فوجی امداد پر نظر ثانی کی جانے چاہیے۔ سن دو ہزار ایک کے بعد سے پاکستان کو دی گئی امداد میں سے پانچ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی امداد حصہ قبائلی علاقوں میں پاکستان فوج کی کارروائیوں پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کی گیا ہے۔ ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر فوج کی تربیت اور سازو سامان پر جبکہ باقی ماندہ رقم اقتصادی امداد اور دیگر ضروریات پر خرچ کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ’ توجہ ہٹانے کے لیے القاعدہ کا نام ‘ 28 December, 2007 | پاکستان ’خفیہ امریکی آپریشنز پر غور‘06 January, 2008 | پاکستان ’پاکستان پرنئی پالیسی کامشورہ‘06 January, 2008 | پاکستان فوجی امداد، پابندیاں ختم10 April, 2008 | پاکستان امریکہ امداد کے حساب کا متقاضی28 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||