BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 May, 2008, 18:53 GMT 23:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالا باغ پر بیان نواز لیگ کیلیے دھچکہ

راجہ پرویز اشرف
کالا باغ کو سینیٹ میں پیش کرنا چاہیے تھا جہاں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہے: رانا ثناء اللہ
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کالا باغ ڈیم کے متعلق ایسے ہی اپنی طرف سے بات کر دی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی ایک ساتھ پانچ سال تک اپوزیشن میں رہے ہیں اور کالا باغ ڈیم پر متعدد بار بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسلم لیگ نواز کا مؤقف ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم کے ڈیزائن یا کوئی اور تکنیکی خامیاں ہیں تو ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔

اس ردعمل کا اظہار وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ متنازعہ ہے اور فی الحال اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

’کالا باغ ڈیم ایک اچھا پروجیکٹ ہے۔ اس پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے صوبوں کے خلاف کوئی پروجیکٹ ہو۔ لیکن اس پر بات چیت کر کے اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کا بیان مسلم لیگ نواز کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ’جہاں تک میرا خیال ہے تو کالا باغ کے ایشو پر موجودہ وفاقی کابینہ میں بحث نہیں ہوئی ہے۔ اس مسئلے کو سینیٹ میں پیش کرنا چاہیے تھا جہاں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہے۔ اگر وہاں نہیں تو مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے پیش کیا جاتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں مسلم لیگ کی قیادت وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھائے گی۔

دوسری طرف پنجاب واٹر کونسل اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے کالا باغ ڈیم منصوبے کو ختم کرنے کی مخالفت کی ہے۔

پنجاب کے کسانوں کے پانی کے حقوق کی ترجمان تنظیم پنجاب واٹر کونسل کے صدر محمد امین چٹھہ نے منگل کے روز لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی کے اس بیان کی مذمت کی اور کہا کہ کالاباغ ڈیم انیس سو ساٹھ میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کا حصہ ہے اور اس معاہدے کے تحت پنجاب کی گیارہ کروڑ عوام کو یہ ڈیم بنانے کا حق دیا گیا ہے۔

 جب پاکستان کی وفاقی حکومت نے انیس سوساٹھ میں دریائے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کو آٹھ کروڑ روپے میں فروخت کیا تھا اور اس کے بدلے پنجاب کو ایک معاہدے کے تحت کالا باغ ڈیم بنانے کا حق دیا گیا تھا
پنجابب واٹر کونسل

ان کے مطابق ’چند سیاستدانوں کا ٹولہ نہ تو اس منصوبے کو ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم کر سکتا ہے۔‘

جب پاکستان کی وفاقی حکومت نے انیس سوساٹھ میں دریائے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کو آٹھ کروڑ روپے میں فروخت کیا تھا اور اس کے بدلے پنجاب کو ایک معاہدے کے تحت کالا باغ ڈیم بنانے کا حق دیا گیا تھا۔

ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی کالا باغ ڈیم کو متنازعہ منصوبہ سمجھ رہی ہے لیکن اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ڈیم کے پانی سے پورے پاکستان کے لوگوں کو فائدہ ہو گا کیونکہ دُنیا میں جہاں بھی ڈیمز بنائے گئے ہیں وہاں خوشحالی آئی ہے۔

اس تنظیم کی ایک اور نمائندہ رابعہ سلطان نے کہا کہ’یہ نام نہاد جمہوری حکومت جو اپنے آپ کو جمہوریت کا علمبردار کہتی ہے اس نے کالا باغ ڈیم منصوبے کو ختم کر نے کا فیصلہ کر کے ایک آمر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔‘

پنجاب واٹر کونسل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کے جن دریاؤں کو فروخت کیا گیا ان کا پانی پنجاب کے کسانوں کی کو فوراً دیا جائے اور جب تک کالاباغ ڈیم مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اسی فیصد پیداوار دینے والے صوبہ کو اسی فیصد موجودہ وسائل سے پانی دیا جائے۔

کالا باغ ڈیم مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے زیادہ اہم ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم منصوبے کو آج تک کوئی فوجی یا غیر فوجی حکمران ختم نہیں کر سکا تو وفاقی وزیر کو اس کا اختیار کس نے دیا ہے۔
مصطفیٰ کھر

پنجاب واٹر کونسل کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ انیس سو اکیانوے اپورشنمینٹ اکارڈ اور ارسا ایکٹ انیس سو بانوے کو منسوخ کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے پنجاب اور دیگر صوبوں میں نفرت کا آغاز ہوا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفے کھر نے بھی لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے دیے گئے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ کالا باغ ڈیم مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کالا باغ ڈیم منصوبے کو آج تک کوئی فوجی یا غیر فوجی حکمران ختم نہیں کر سکا تو وفاقی وزیر کو اس کا اختیار کس نے دیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم ایک اہم قومی مسئلہ ہے اور اس کو بنانے یا نہ بنانے کیلئے ریفرنڈم ہونا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے لاہور پریس کلب کے باہر موجودہ حکومت کی طرف سے کالا باغ منصوبے کو ختم کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد