’باجوڑ حملے کا انتقام‘: اہلکار قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ہفتے قبل اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کی لاش ملی ہے جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ لاش کے ساتھ ملنے والے ایک خط میں لکھا گیا ہے کہ اہلکار کو گزشتہ روز ڈمہ ڈولہ کے ایک گھر پر ہونے والے مبینہ میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے انتقام میں قتل کیا گیا ہے۔ ایک پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ اسکاؤٹس کے قتل کیے جانے والے اہلکار کی لاش جمعرات کی رات کو پشت بازار کے قریب ملی ہے جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقتول اہلکار کو ایک ہفتے قبل نامعلوم مسلح افراد نے پشت کے علاقے سے اغواء کیا تھا۔ انکے بقول اہلکار کی رہائی کے لیےسالارزئی قبائل کے تشکیل شدہ جرگہ کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ حکومتی اہلکار کے مطابق لاش کے ساتھ اردو زبان میں لکھا گیا ایک خط بھی ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان، فوج اور خفیہ ادارے امریکہ کی ’خوشنودی‘ کے لیے مساجد اور دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں لہذا حکومتی اداروں میں کام کرنے والے تمام افراد اور حکومت کے حمایت یافتہ قبائلی مشران اور عام لوگ ’واجب القتل‘ ہیں۔ ’مجاہدین‘ کی طرف سے جاری ہونے والے اس خط میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اس اہلکار کو گزشتہ شب ڈمہ ڈولہ میں ایک گھر پر ہونے والے مبینہ میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے بدلے میں قتل کیا گیا ہے۔ بدھ کی شب ہونے والے اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے جبکہ بعض ذرائع مرنے والوں کی تعداد بارہ بتا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’مشتعل سب ہیں مگر بات کوئی نہیں کرتا‘15 May, 2008 | پاکستان ڈمہ ڈولا حملے کے خلاف احتجاج15 May, 2008 | پاکستان تشدد کا ضابطہ15 May, 2008 | پاکستان باجوڑ: ’تحقیقات پوری ہونے دیں‘15 May, 2008 | پاکستان باجوڑ میں لیویز کی چوکی پر حملہ08 September, 2007 | پاکستان باجوڑ، سوات حملے سرکاری افسر زخمی05 September, 2007 | پاکستان باجوڑ بم دھماکہ، قبائلی سربراہ ہلاک16 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||