BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقے: ایڈز متاثرین میں اضافہ

 ایڈز
قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً چھ سو تک پہنچ چکی ہے
صوبہ سرحد ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں اور شورش زدہ اضلاع میں بڑھتے ہوئے تشدد کے سبب ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صوبائی ایڈز کنٹرول کےپروگرام آفسر ڈاکٹر راجول نے بی بی سی کوبتایا کہ ’گزشتہ چند سالوں کے دوران قبائلی علاقوں اور صوبے کے جنوبی اضلاع میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے وہاں پر ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘

ان کے بقول ایچ آئی وی ایڈز کے زیادہ ترمریضوں کا تعلق فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ کرم ایجنسی، شمالی و جنوبی وزیرستان اور ضلع بنوں سے ہے جہاں پر ہونے والی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کو بغیر کسی تشخیص کےخون کا عطیہ دیا جاتاہے۔ جس کے نتیجے میں ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس کے صحت مند افراد کو منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ان علاقوں میں ایچ آئی وی ایڈز کا مرض خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے ان افراد کی وجہ سے پھیل گیا ہے جنہیں عرب ممالک کے حکام خون کی سالانہ تشخیص کے دوران ایچ آئی وی پازیٹیو پاکر واپس پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ان کے بقول ایڈز سے متاثرہ یہ ا فراد وطن واپس آکر ایچ آئی وی وائرس اپنے بیوی بچوں کو منتقل کردیتے ہیں۔‘

متضاد اعداد و شمار
 پاکستان میں سرکاری طور پر ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ تین ہزار کے قریب مریض رپورٹ کیےگئے ہیں تاہم مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پوزیٹو کیسوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے
ڈاکٹر راجول

ڈاکٹر راجول کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور صرف رواں مہینے کے دوران ان کے پاس نو کے قریب مریضوں نے اپنی رجسٹریشن کروائی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً چھ سو تک پہنچ چکی ہے جبکہ دو سال قبل تقریباً چار سو ساٹھ افراد اس مرض میں مبتلا تھے۔

ڈاکٹر راجول کے مطابق پاکستان میں سرکاری طور پر ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ تین ہزار کے قریب مریض رپورٹ کیےگئے ہیں تاہم مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پوزیٹو کیسوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد