BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 April, 2008, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند جھڑپ ،ہلاکتوں میں اضافہ

مہمند میں مسلح لوگ(فائل فوٹو)
مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان اور مسلح گروہوں کے مابین کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں
پاکستان کےقبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان اور قبائل کے مابین ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ تک پہنچ گئی ہے۔

عسکریت پسندوں نے ایک مسلح گروہ کے خلاف کارروائی میں دو گاؤں مسمار کر دیے ہیں جبکہ مسلح گروہ کے ایک شخص کو طالبان نے سر عام گولی مار کر قتل کیا ہے۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام مچنی کے علاقے رحیم کور میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب مقامی عسکریت پسندوں نے دادو خیل قبیلے کے ایک مسلح گروہ پر اغواء برائے تاوان کا الزام لگا کر ان میں سے ایک شخص کو بندوق کے نوک اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے کے مقامی قبائل بھی گھروں سے نکل ائے اور مسلح گروہ کا ساتھ دیتے ہوئے طالبان کے خلاف مورچہ زن ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان اور قبائل کے مابین کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے جس میں بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے دعوی کیا ہے کہ مسلح افراد کی طرف سے طالبان پر حملے کے بعد دیگر علاقوں سے سینکڑوں عسکریت پسند مہمند ایجنسی پہنچے ہیں اور انہوں نے مچنی کے آس پاس تمام علاقوں کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ عسکریت پسندوں نے رحیم کور اور ڈاک کور میں قائم سو کے قریب گھروں کو مسمار کیا ہے جبکہ مسلح افراد کی تلاش کے لیے شب قدر کے کچھ علاقوں کو بھی محاصرے میں لے رکھا ہے ۔ ان کے مطابق مسلح گروہ کا ساتھ دینے والے قبائل کے گھروں کو بھی مسمار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک طالب کو ہلاک کرنے کے جرم میں مسلح گروہ کے ایک شخص کو آج مچنی کے علاقےمیں سرعام گولی مار کر قتل کیا گیا ہے۔

مولوی عمر نے الزام لگایا کہ مسلح گروہ کے تمام افراد مبینہ طورپر اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین قسم کے جرائم میں ملوث تھے تاہم آزاد ذرائع سے ان الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ لڑائی میں ان کا ایک ساتھی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ مخالف فریق کے سات افراد مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان اور مسلح گروہوں کے مابین کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
مہمند میں جھڑپ، سات ہلاک
26 April, 2008 | پاکستان
مہمند ایجنسی میں دو ہلاک
15 January, 2008 | پاکستان
مہمند کارروائی، ایک ہلاک
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد