BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 April, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایف سی آر کی جگہ شرعی نظام‘

 قاضی حسین احمد
قبائلی تھانے کچہری کا نظام نہیں چاہتے: قاضی حسین احمد
جماعت اسلامی نے نومنتخب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر کا قانون ختم کر کے وہاں شرعی نظام نافذ کیا جائے اور اس نظام کو چلانے کے لیے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر جرگوں کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔

یہ مطالبہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے منگل کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر قبائلی علاقوں کے لیے باجوڑ کے ایک مدرسے پر میزائل حملے کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے احتجاجاً استعفی دینے والے جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر ہارون الرشید اور دوسرے قبائلی علاقوں سے جماعت اسلامی کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

قاضی حسین احمد نے بتایا کہ منگل کو ان کی رہائش گاہ پر جماعت اسلامی کے قبائلی ذمہ داران کا اجلاس ہوا جس میں ایف سی آر کے متبادل نظام پر غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایف سی آر کا قانون ظالمانہ ہے اور ہم نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے اچانک خاتمے کے اعلان سے تشویش پھیل گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’لوگ سوچ رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو کیونکہ وہ وہاں مداخلت کی فکر میں ہے اور اس کی خواہش یہ ہے کہ یہ علاقہ سٹیلڈ (بندوبستی) ہوجائے اور وہاں اسٹیبلشمینٹ کو مداخلت کا راستہ مل جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام بالکل نہیں چاہتے کہ ان کی آزادانہ حیثیت کو اس طرح سے ختم کیا جائے کہ وہاں تھانے کچہری کا نظام رائج ہو جائے۔ ’اس نظام نے پورے ملک میں جو خرابی پھیلائی ہے یہی خرابی اس کے ذریعے قبائلی علاقوں میں بھی آئے گی اور یہ نظام کوئی خیر کے بجائے افراتفری پھیلائے گا‘۔

 لوگ سوچ رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو کیونکہ وہ وہاں مداخلت کی فکر میں ہے اور اس کی خواہش یہ ہے کہ یہ علاقہ سٹیلڈ (بندوبستی) ہوجائے اور وہاں اسٹیبلشمینٹ کو مداخلت کا راستہ مل جائے‘۔
قاضی حسین احمد

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قبائلی علاقوں کے لوگوں کی تشویش دور کرنے کے لیے اعلان کرے کہ تھانہ کچہری کا نظام قبائلی علاقوں میں رائج نہیں کیا جائے گا۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں نامزد جرگوں کے بجائے منتخب جرگے قائم کیے جائیں جو مجوزہ اسلامی نظام کے خدوخال منتخب جرگے کے ارکان علاقے سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی اور سنیٹرز کے صلاح مشورے سے طے کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جماعت اسلامی فارمولا بنا رہی ہے اور اس کے لئے اسلام آباد میں سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں ان مطالبات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی قبائلی علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لئے آنے والے دنوں میں تمام ایجنسیوں میں بڑے عوامی جلسے کرے گی جہاں قراردادوں کے ذریعے یہ مطالبات منظور کرائیں گے اور اس کے علاوہ پشاور میں تمام قبائل کا ایک بڑا جرگہ پشاور میں بھی بلائیں گے تاہم ان تمام پروگراموں کی تاریخیں بعد میں طے کی جائیں گی۔

 قبائلی عوام بالکل نہیں چاہتے کہ ان کی آزادانہ حیثیت کو اس طرح سے ختم کیا جائے کہ وہاں تھانے کچہری کا نظام رائج ہو جائے۔اس نظام نے پورے ملک میں جو خرابی پھیلائی ہے یہی خرابی اس کے ذریعے قبائلی علاقوں میں بھی آئے گی اور یہ نظام کوئی خیر کے بجائے افراتفری پھیلائے گا۔
قاضی حسین احمد

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ایف سی آر میں ترمیموں کے حق میں نہیں ہیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ یہ دور غلامی کی یادگار ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ حکمران اتحاد کا تو کہنا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہتا ہے، جماعت اسلامی اس کی حمایت کیوں نہیں کرتی تو ان کا جواب تھا ’قومی دھارے سے آپ کی کیا مراد ہے، قومی دھارا کسے کہتے ہیں، نہ ہی اے این پی اور نہ ہی کوئی دوسری جماعت چاہتی ہے کہ قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں شامل کیا جائے اور نہ یہ ممکن ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا شریعت کے نفاذ سے قبائلی علاقوں میں انتہاپسندی نہیں بڑھے گی، تو انہوں نے اس کا واضح جواب نہیں دیا بلکہ صرف اتنا کہا کہ جب منتخب جرگے قائم ہوں گے تو وہ شرعی نظام کے نفاذ کا ہی مطالبہ کریں گے اور ان کی تجاویز کی روشنی میں اس کا نفاذ ہوگا ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد