ایف سی آرکا خاتمہ، خواب یا حقیقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں دیگر باتوں کے علاوہ قبائلی علاقوں میں انگریز دور کےرائج کردہ ایک صدی پرانے کالے قانون ایف سی آر کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔اس اعلان کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں کے نہ صرف سیاسی عمائدین بلکہ عوام میں بھی اس سلسلے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کی ابتداء اس وقت ہوئی جب برطانیہ نے اٹھارہ سو اڑتالیس میں سرحدی پختون آبادی والے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا۔جس کے بعد اس میں دو مرتبہ تبدیلیاں لائی گئیں۔لیکن انیس سوایک کے بعد سے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد فرنٹیر کرائمز ریگولیشن صوبہ سرحد، بلوچستان اور تمام قبائلی علاقوں میں موجود تھا۔صوبہ سرحد میں انیس سوچھپن کے آئین کے نفاذ کے بعد اسے ختم کردیا گیا جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں اس وقت ختم ہوا جب بلوچستان ہائی کورٹ نے ’ قران ،سنت بمقابلہ ایف سی آر، کیس میں اس کوغیر اسلامی قرار دیا۔صوبہ سرحد کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں یہ انیس پچھتر میں ختم ہوا۔
ان علاقوں میں بعض عمائدین کی خواہش ہے کہ اس قانون میں ترمیم ہونا چاہیے جبکہ علماء اور کچھ دوسرے لوگ اس کے متبادل شرعی نظام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے سینیٹر صالح شاہ کا کہنا ہے کہ ’ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر ختم کرنے کے بعد شرعی نظام نافذ کیا جائے۔، ان کےمطابق قبائلی علاقوں میں شریعت کا نظام لوگوں کے مزاج کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ترمیم کرنا بھی ہے تواس میں پولیٹکل ایجنٹ کے اختیارات کو محدود کرنا چاہیے۔، لیکن کچھ دوسرے قبائلی اس کو ایک ظالمانہ نظام سمجھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس کو سرے سے ختم کرنا چاہیے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اور سماجی شخصیت کے حامل حاجی محمد کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے علاقوں کے لیے جمہوریت فائدہ مند ہے تو قبائلی علاقوں کےلیے اس کو کیوں نہیں پسند کیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’قبائلی علاقوں میں ملک نے اجارہ داری قائم کی ہے تمام سرکاری مراعات بھی وہ کھاتے ہیں۔یہ سلسلہ نسل در نسل چلا آرہا ہے۔، انہوں نے قبائلی علاقوں میں شریعت کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوجائےگا جبکہ قبائلی علاقوں میں ابتر صورتحال کی وجہ بھی ایف سی آر جیسے فرسودہ نظام کی موجودگی ہے۔، شمالی وزیرستان کے قیصر اقبال نے کہا ہے کہ اس فرسودہ نظام کو سرے سے ختم کرنا چاہیے کیوں کہ اگر پورےگاؤں میں کوئی معمولی سا جرم بھی کرلے تو پولیٹکل انتظامیہ گاؤں کےکسی بھی فرد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتی ہیں۔پھر کئی سال تک وہ جیل میں ہی پڑا رہتا ہے اور پولیٹکل ایجنٹ کےاس فیصلے کے خلاف عدالت میں بھی نہیں جاسکتے ہیں۔، ایف سی آر میں سب سے زیادہ متنازعہ دفعہ چالیس ایف سی آر ہے۔ اس دفعہ کی بنا پر ’اجتماعی ذمہ داری‘ کے تحت پولیٹکل انتظامیہ کسی ایک شخص پر شک کی وجہ سے پورے گاؤں، گاؤں کے کسی بھی شخص یا اس کے پورے گھرانے کوگرفتار کرسکتی ہے۔ ایف سی آر کا خاتمہ یا اصلاح ایک مشکل کام ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت اپنے پہلے سو دن میں یہ کرپائے گی یا نہیں۔ | اسی بارے میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ30 March, 2008 | پاکستان صرف شرعی قانون قابل قبول: طالبان30 March, 2008 | پاکستان میڈیا،یونینز پر عائد پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان ’دور رس نتائج کے حامل اعلانات‘29 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے26 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||