’دور رس نتائج کے حامل اعلانات‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے پالیسی بیان میں فرنگی حکومت کے ایک صدی پرانے کالے قانون ایف سی آر کے علاوہ فوجی ادوار میں عوام کے قانونی حقوق پر عائد کی گئی بعض سنگین پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے ملک کے مستقبل پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر یعنی’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن‘ ایسے سخت قوانین پر مشتمل ہے جو انگریز حکومت نے 1901 میں نافذ کیا تھا۔ یہ قانون خاص طور پر برطانوی راج کے خلاف پختونوں کی شدید مخالفت سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس میں انسانی حقوق کے احترام کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔ اس قانون میں کسی آزاد اور غیر جانبدار عدالتی نظام کا کوئی تصور موجود نہیں جو آزادانہ اور منصفانہ طور پر انصاف فراہم کرسکے بلکہ ایف سی آر کے تحت قبائلی علاقوں میں سول اور فوجداری مقدمات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا کلی اختیار جرگوں کے پاس ہے اور ان کے فیصلوں کو حتمی تصور کیا جاتا ہے اور hانہیں کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان جرگوں کے ارکان کا انتخاب انتظامیہ کرتی ہے اس طرح سزا اور جزا کے تمام تر اختیارات انتظامیہ یعنی پولیٹیکل ایجنٹوں کے قبضے میں رہتے ہیں۔ ایف سی آر کے تحت چلنے والے ان جرگوں کے ریکارڈ میں ایسے لاتعداد مقدمات موجود ہیں جن میں انہوں نے مقدمات میں مطلوب ملزمان کی عدم گرفتاری پر ان کی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بچوں کو سزائیں سنائیں اور جیل میں ڈالا۔ مئی 2004ء میں ایف سی آر کے تحت ایک جرگے نے دو سال کی بچی زرمینہ کو اس کی ماں حکم جاناں، سات سالہ بہن وزیر جان، آٹھ سالہ بہن اسلام بی بی، تین سالہ بھائی خلیل محمد اور نو سالہ بھائی صادق محمد کے ساتھ تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کا جرم یہ بتایا گیا تھا کہ زرمینہ کے والد قادر خان اور چچا ارسل خان اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں مفرور ہیں۔ ایف سی آر کے تحت ملنے والی سزا کے خلاف چونکہ کسی اعلٰی عدالت میں اپیل داخل نہیں کی جاسکتی اس لئے ان پانچ بچوں اور ان کی ماں کو یہ سزا کاٹنا پڑی۔
یہی نہیں بلکہ اسی قانون کے تحت حکام نے زرمینہ کے والد اور چچا کی گرفتاری کے لئے ان کے آبائی علاقے لکی مروت میں آپریشن کیا جس کے دوران ان کے اور ان کے رشتے داروں کے سو سے زائد گھر مسمار کر دیے کیونکہ ایف سی آر جرگوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتار کر سکتے ہیں اور نہ صرف اس کی پوری برادری پر جرمانہ عائد کرسکتے ہیں بلکہ ملزم کو اس کے گھر سے بے دخل اور جائداد ضبط کر سکتے ہیں۔ ایف سی آر کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں صحافت بھی پابند رہی ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹس کو لامحدود اختیارات حاصل ہونے کے باعث مقامی صحافیوں کو ہراساں کرنے اور جیل میں ڈالنے کی شکایات اکثر سامنے آتی ہیں جبکہ قبائلی علاقوں سے کوئی اخبار یا جریدہ نکالنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ وزیراعظم نے ٹریڈ یونینوں اور طلبہ یونینوں کی بحالی کا بھی اعلان کیا۔ طلبہ یونینوں پر تو جنرل ضیاء الحق کے دور سے مکمل پابندی عائد ہے جبکہ ٹریڈ یونینوں کی آزادی کو جنرل ضیاء اور پھر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں نے بڑی حد تک سلب کر کے بےاثر بنا دیا ہے۔ مبصرین کے بقول فوجی حکومتوں کے ان اقدامات کا مقصد طلبہ اور مزدوروں کو منظم ہونے سے روکنا تھا تاکہ وہ بے ضرر رہیں اور مضبوط تحریکیں نہ چلاسکیں۔ سنہ 84ء میں طلبہ یونینوں کے خاتمے کے بعد کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپسز میں نظریات کی بنیاد پر ہونے والی مثبت اور صحتمند سیاست ختم ہوگئی اور وہ مختلف نسلی، لسانی اور مذہبی شدت پسند جماعتوں کی بغل بچہ طلبہ تنظیموں کی گرفت میں آگئے جس کے نتیجے میں تصادم اور تشدد کی سیاست نے وہاں آج تک ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور طلبہ کے حقوق کی سیاست کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ طلبہ یونینوں پر پابندی کا ایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ ملک میں سیاسی قیادت کی پیداوار رک گئی کیونکہ کیمپسز نظریاتی سیاست کی نرسریاں تصور کیے جاتے تھے جہاں جوالا مکھی سمجھے جانے والے نوجوان طلبہ نظریاتی بنیادوں پر سیاست کرنے کے آداب سیکھتے تھے۔ اسی طرح ٹریڈ یونینوں پر پابندی نے سرکاری اور نجی شعبوں کے مزدوروں کے استحصال کی نئی شکلیں متعارف کرائیں جن میں بڑے پیمانے پر جبری چھانٹیاں اور ٹھیکیداری نظام سرفہرست ہے۔ اسی پابندی کے نتیجے میں ٹھیکیداری نظام آج سرکاری اور نجی شعبوں میں مضبوط شکل اختیار کرگیا ہے اور ایئرپورٹس سے لیکر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک میں مخصوص ٹھیکیدار بیروزگار مردوں اور خواتین کو معمولی یومیہ اجرتوں پر دیہاڑی پر رکھتے ہیں اور ان مزدوروں کو تقررناموں، علاج و معالجے، بونس، ترقی، ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے فوائد سمیت تمام تر قانونی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے کیونکہ انہیں ریکارڈ پر ملازم ظاہر ہی نہیں کیا جاتا اور وہ موجود ہوتے ہوئے بھی عدم موجود ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے آئی آر او یعنی انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس 2002 کا خاتمہ بھی ایک امید افزاء نوید ہے کیونکہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نافذ کیے گئے اس قانون کے خلاف ملک بھر کے مزدور وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے آرہے ہیں اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت مختلف سول سرکاری اداروں میں نہ صرف ٹریڈ یونینوں پر پابندی عائد کی گئی بلکہ وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ جب چاہے کسی بھی ادارے یا فیکٹری میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو معطل کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں میڈیا،یونینز پر عائد پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان ’اصل چیلنج اعلان پر عملدرآمد‘29 March, 2008 | پاکستان ’پیمرا کو ہی ختم کیا جائے‘29 March, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے لیے’ کھلا پیغام‘29 March, 2008 | پاکستان ’مشرف کی پالیسی نہ دہرائیں تو تعاون‘29 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||