BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان دھماکے، پائپ لائن تباہ

 پائپ لائن
پائپ لائن سے پنجاب اور صوبہ سرحد کو گیس فراہم کی جاتی ہے(فائل فوٹو)
بلوچستان کے شہر ڈیرہ اللہ یار میں صحبت پور چوک پر ایک دھماکے سے کم سے کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم افراد نے پیر کوہ سے سوئی کی جانب آنے والی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

ضلع جعفر آباد کی تحصیل ڈیرہ اللہ یار میں میں چوک پر ریلوے پھاٹک کے قریب دھماکہ جمعرات کو قریباً بارہ بجے دوپہر ہوا ہے۔ پولیس انسپکٹر عیسی جان نے بتایا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بگٹی وڈیرہ بنگل خان تھے لیکن وہ محفوظ رہے اور تین راہگیر زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا اور بنگل خان بگٹی پر پہلے بھی دو حملے ہو چکے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکے سے سات افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دو کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس مقام سے پاکستان پیپلز پارٹی کے قافلے نے بھی گزرنا تھا ۔ یہ قافلہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گڑھی خدا بخش جا رہا ہے جہاں لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی برسی میں شرکت کریں گے۔ دھماکہ قافلہ گزرنے سے کوئی پندرہ منٹ پہلے ہوا ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی کے علاقہ سوئی سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ چوبیس انچ قطر کی ایک بڑی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ اس پائپ لائن سے سوئی میں موجود پلانٹ سے پنجاب اور صوبہ سرحد کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکہ رات گئے ہوا ہے جس سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نا معلوم مقام سے ٹیلیفون پر اس حملے کی زمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ سرباز بلوچ نے دعوی کیا ہے کہ بیکڑ کے علاقے میں فرنٹیئر کور کی چوکی پر راکٹ بھی داغے گئے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

یاد رہے بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں خاص طور پر گیس پائپ لائنوں اور گیس کے کنوؤں پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ دو سال سے شروع ہے اور ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سوئی میں گیس کے تیس کنووں میں نقص پیدا ہوگیا ہے۔ سوئی سے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں غیر ملکی ماہرین کو بھی سوئی بلایا گیا تھا تاکہ گیس کے کنوؤں کی مرمت کی جا سکے۔

اسی بارے میں
دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک
03 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد