کوٹیکنا کیس،عدم پیروی کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت سوئٹزرلینڈ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس سے دستبردار ہوگئی ہے۔ سوئس حکام اس امر کے باوجود کیس کی پیروی کریں گے تاہم وکلاء کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دستبرداری سے یہ الزام ثابت کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مقدمہ سوئٹزرلینڈ میں درج ہے جہاں سنہ دو ہزار تین میں جینیوا کے ایک مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بینظیر اور ان کے ساتھیوں نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی سوئس کمپنیوں سے’ کک بیکس‘ کی صورت میں پندرہ ملین ڈالر وصول کیے۔ مجسٹریٹ نے بینظیر اور ان کے شوہر آصف علی ززرداری کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ حکومتِ پاکستان کو قریباً بارہ ملین ڈالر لوٹائیں۔ بینظیر کی جانب سے ان کی غیر حاضری میں کیے جانے والے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی تھی اور اب اس مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان حکومت نے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف تمام مقدمات آصف زرداری کے خلاف مقدمات قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت ختم کیے ہیں۔ آصف علی زرداری کا موقف ہے کہ یہ تمام مقدمات جھوٹے ہیں اور سیاسی رنجش کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں زرداری جسٹس نظام کیس میں بری24 March, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟27 February, 2008 | پاکستان چار حلقوں کے نتائج کا اعلان مؤخر23 February, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس: مؤثر یا غیرمؤثر06 February, 2008 | پاکستان مقدمات ختم کرنے کی سفارش مسترد26 October, 2007 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق04 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||