’غریب عوام کے امیر نمائندے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر یہ کہا جائے کہ مسلم لیگ (ق) کی سابق حکومت کروڑ پتیوں کی حکومت تھی تو شاید غلط نہ ہوگا۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز سے لے کر وزیر خارجہ تک اور خود مسلم لیگ کے سربراہ نے جو جون دو ہزار سات تک کے آخری گوشوارے جمع کرائے ان کے مطابق تقریباً ہر سابقہ وزیر کروڑوں کا مالک ہے۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے، جو انتخابات سے قبل ہی ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے، گوشواروں کی تفصیل کے مطابق ان کے کراچی ڈیفنس میں ایک مکان اور ایک پلاٹ کے علاوہ اسلام آباد میں چھ کروڑ کا فارم ہاوس اور مہنگے ترین سیکٹر ای گیارہ میں دو پلاٹ ہیں۔ بیرون ملک ان کا لندن میں دس لاکھ پاونڈز جبکہ نیویارک میں ستائس لاکھ ڈالر کے اپارٹمنٹس ہیں۔ پندرہ لاکھ کے زیورات اور لاکھوں روپے کے بینک بیلنس اس کے علاوہ ہیں۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ مختلف بینکوں میں چھتیس لاکھ نقد جس میں مرسڈیز گاڑی کی فروخت کی رقم بھی شامل ہے، کے علاوہ چارسدہ میں پچھتر لاکھ روپے کی دکانوں اور زرعی اراضی کے بھی مالک ہیں۔ وہ تیس لاکھ کی ایک گاڑی اور صرف ساٹھ ہزار روپے کے زیورات کے مالک ہیں تاہم ان کی بیوی اور بچے بھی سینکڑوں کنال اراضی کے علاوہ منقولہ اور غیرمنقولہ اراضی کے مالک ہیں۔ ایک اور سابق حکومت کے وزیر جو اپنی نشست اٹھارہ فروری کو بچا نہیں سکے شیخ رشید احمد ہیں۔ ان کے اثاثوں کی کل مالیت دس کروڑ سے زائد ہے جس میں سولہ لاکھ کے وہ ایک بنک کے مقروض بھی ہیں۔ ان کے اثاثوں میں ایک ٹریکٹر ٹرالی کے علاوہ اسلام آباد میں بقول ان کے آٹھ لاکھ مالیت کا فارم ہاوس، اٹک اور راولپنڈی میں اراضی اور مارکیٹیں ہیں۔
ہارون احسان پراچہ این اے 64 سرگودھا سے پچھلی اسمبلی میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ ان کو باآسانی پچھلے ایوان کے امیر ترین اراکین میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کے صرف پلاٹوں کی قیمت چار کروڑ بنتی ہے جس میں انہوں نے اسلام آباد میں اب ڈیڑھ کروڑ کی قیمت کے پلاٹ کی آج کل کی قیمت ایک لاکھ ظاہر کی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ مسلم لیگ قاف کے سابق رکن اور سابق وزیر مملکت عمر ایوب خان کے، جو اس مرتبہ منتخب نہیں ہوسکے آخری گوشوارے کے مطابق وہ باآسانی امیر ترین اراکین میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مجموعی اثاثوں کی رقم سات کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ سابق حکمراں اتحاد کی خواتین اراکین سمیرا ملک اور کشمالہ طارق بھی کروڑوں کی مالک ہیں۔ سابق وفاقی وزیر قانون جنہیں بعد میں وزارت نجکاری و سرمایہ کاری دی گئی تھی بھی چار کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور سابق وزیر مخدوم فیصل صالح حیات تین کروڑ کی تو صرف زرعی اراضی کے مالک ہیں۔ لیکن ڈاکٹر شیر افگن نیازی جیسے بظاہر متوسط طبقے کے وزیر بھی تھے جن کا کل اثاثہ چون لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اس میں ایک پچاس لاکھ کا مکان اور دو لاکھ کا گھریلوں سامان اور دو لاکھ نقد رقم شامل ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے سب سے غریب رکن قومی اسمبلی حلقہ این اے دس مردان سے دو ہزار دو کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے رکن اسمبلی مولانا محمد قاسم تھے۔ گزشتہ برس الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے گئے ان کے اثاثوں کے گوشوارے کے مطابق اکاسی ہزار روپے نقد کے علاوہ ان کی ملکیت میں صرف چار چارپائیاں، تین میزیں اور چھ کرسیاں ہیں۔ شیرگڑھ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے مولانا قاسم جمعیت علما اسلام کے ضلعی نائب امیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ ایم اے اسلامیات اور عربی کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جون دو ہزار سات تک اپنے اثاثوں کی تفصیل میں بینک میں صرف تین ہزار روپے ظاہر کیئے ہیں۔ تاہم ان کے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مکان جبکہ دوسرے میں جزوی حصہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کا پانچ کنال کا ایک پلاٹ بھی ہے۔ ان کے بھائی عطاالرحمان گزشتہ اسمبلی میں ٹانک کے علاقے سے منتخب ہوئے تھے۔ وہ اپنے بھائی سے بھی کم وسائل کے مالک ہیں۔ ایک مکان میں جزوی حصے کے علاوہ وہ پچاس تولے سونے اور بیس ہزار روپے کے گھریلو سامان کے مالک ہیں۔ سابق وزیر اعلی سرحد اکرم خان درانی کے برخوردار زید اکرم درانی جو سابق اسمبلی کے آخری سال میں ضمنی انتخاب میں منتخب ہوئے تھے، انہوں نے اپنے گوشوارے میں سینیٹ سیکریٹیریٹ ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک پلاٹ، بنوں میں ایک دکان، پچاس ہزار کے پرائز بانڈز اور چار لاکھ بینک اکاونٹ ظاہر کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے چترال سے سابق رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے باقی اثاثوں کے علاوہ دلچسپ طور پر چالیس ہزار روپے کی چار سو فٹ لکڑی اور ساٹھ ہزار روپے کے سیمنٹ بلاک کا بھی ذکر کیا ہے۔ ملاکنڈ سے ایم ایم اے کے سابق رکن اسمبلی سید بختیار مانی نے اپنے گوشوارے میں محض اتنا لکھا کہ وہ والد صاحب کے ساتھ رہتے ہیں اور سب جائیداد ان کے نام ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کچھ کم امیر نہیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں ایک ایک مکان کے علاوہ اسلام آباد میں ایک اپارٹمنٹ، خانیوال میں پانچ سو تیس کنال اراضی، ایک پراڈو جبکہ ایک سوزوکی کیری کے وہ مالک ہیں۔ مسلم لیگ کے حامد ناصر چٹھہ بھی نو کروڑ سے زائد کی وراثت میں ملے اثاثوں کے مالک ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم نے کروڑوں کے جو اثاثے ظاہر کیئے ہیں ان میں ایک سو دس گائے، بھینسیں، اونٹ اور بکریاں بھی شامل ہیں جن کی مالیت سات لاکھ ظاہر کی ہے۔ نئی حکومت کے وزراء کی مالی حالت بھی ماضی کی کابینہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ سید نوید قمر، مخدوم شاہ محمود قریشی، آصف خواجہ کی مالی حالت ان کے گوشواروں سے ظاہر ہے پاکستان کی اکثریت غریب اور متوسط طبقے سے کافی مختلف ہے۔ قومی اسمبلی کی نومنتخب سپیکر فہمیدہ مرزا بھی کروڑوں کی مالک ہیں۔ کراچی کے ڈیفنس علاقے میں تقریباً پندرہ کروڑ کے مکان کے علاوہ وہ اسلام آباد میں بھی کافی مہنگے پلاٹ کی مالکن ہیں۔ گاڑیاں اور دیگر چیزیں اس کے علاوہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی ہی شیری رحمان کے اثاثے ایک کروڑ روپے سے اوپر ہیں۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی جو اس اسمبلی میں تو نہیں لیکن پچھلی اسمبلی میں ان کے مطابق ان کی جائیداد سے کل سالانہ آمدن پندرہ سے چالیس لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ذریعے معاش اور کچھ نہیں۔ ان گوشواروں کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر اراکین نے اپنے اثاثوں کی قیمت موجودہ قیمتوں سے کم بتائی ہے۔ اس سے ایک اور چیز واضع یہ ہوتی ہے کہ اراکین کے اثاثوں کی کم سے کم حد تو ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ | اسی بارے میں گوشوارے: اڑتالیس ناموں کا اعلان17 October, 2006 | پاکستان شریف خاندان کے اثاثے تقسیم10 May, 2005 | پاکستان پاکستان اسمبلی: غریب مولوی امیر فوجی19 November, 2003 | پاکستان ججوں اور جرنیلوں کے اثاثے18 October, 2003 | پاکستان سولہ منتخب ارکان پر پابندی15 October, 2004 | پاکستان ارب پتی پاکستانی سینیٹر29 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||