BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 October, 2006, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوشوارے: اڑتالیس ناموں کا اعلان

الیکشن کمشن نے کل پنتالیس اراکین کو پارلیمان کے امور کی انجام دہی سے روک دیا ہے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان اڑتالیس اراکینِ سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے جنہیں اثاثہ جات کی تفصیل فراہم نہ کرنے پر امور کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے پیر کی شب بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان کی تعداد پینتالیس ہے لیکن منگل کی صبح جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں اڑتالیس اراکین کے نام شامل کیئے گئے ہیں۔

ان اراکینِ پارلیمان میں ایک سینیٹر، دس اراکینِ قومی اسمبلی، سرحد اسمبلی کے سولہ، پنجاب اسمبلی کے بارہ، بلوچستان اسمبلی کے دو جبکہ سندھ اسمبلی کا ایک رکن شامل ہے جبکہ ایک غیر مسلم رکن، خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی دو اراکینِ قومی اسمبلی اور دو اراکینِ صوبائی اسمبلی کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

جن اراکین کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے ثناء اللہ بلوچ سینیٹ کے واحد رکن ہیں جنہوں نے گوشوارے جمع نہیں کروائے جبکہ قومی اسمبلی کے دس اراکین میں سے پانچ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ق)، تین پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ، ایک ایم ایم اے اور ایک مسلم لیگ(جناح) سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی معطل شدہ دو خواتینِ ارکانِ اسمبلی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ق) سے ہے۔

پنجاب اسمبلی کے جن اراکین کو کام کرنے سے روکا گیا ہے ان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے دس، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دو جبکہ پاکستان مسلم لیگ (جناح) کی ایک رکن شامل ہیں۔ سندھ اسمبلی کے واحد معطل شدہ رکن کا تعلق بھی مسلم لیگ (ق) سے ہی ہے۔ سرحد اسمبلی میں اے این پی اور ایم ایم اے کے دو دو، پی پی پی، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے ایک ایک جبکہ دیگر جماعتوں کے نو ارکان کو کام کرنے سے روکا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق اراکین کے پارلیمان کی کارروائی میں حصہ لینے پر پابندی انیس سو چھہتر کے عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی شق 42 اے کے تحت لگائی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے اجراء کے موقع پر کنور محمد دلشاد کا کہنا تھا کہ یہ اراکین اس وقت تک اسمبلی یا سینیٹ کی کارروائی میں شریک نہیں ہو سکیں گے جب تک یہ اثاثہ جات کی تفصیل ظاہر نہیں کر دیتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اراکین کو کام کرنے سے روکا گیا ہے اور ان کے باقی استحقاق مجروح نہیں ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین کی تعداد ایک سو پچاس تھی جو اس سال کم ہو کر اڑتالیس رہ گئی ہے۔ سکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے والے اراکین کے نام کتابی شکل میں ایک ماہ کے اندر شائع کر دیئے جائیں گے۔

کنور دلشاد نے یہ بھی بتایا کہ الیکشن کمشنر آف پاکستان نے چیئرمین سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سپیکروں کو بذریعہ خط آگاہ کر دیا ہے کہ مذکورہ اراکین کو کارروائی میں اس وقت تک حصہ نہ لینے دیا جائے جب تک یہ اثاثہ جات کی تفصیل جمع نہ کروا دیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے ایوانِ بالا اور قومی و صوبایی اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد بارہ سو ہے اور الیکشن کمیشن نے ان اراکین کو تیس ستمبر دو ہزار چھ تک اپنے اثاثہ جات کی تفصیل فراہم کرنے کے لیئے کہا تھا اور بعد ازاں یہ تاریخ تیرہ اکتوبر تک بڑھا دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمان اپنے، اہلیہ یا خاوند اور بچوں کے اثاثوں کے بارے میں سالانہ تفصیلات جمع کرانے کے پابند ہیں۔

اسی بارے میں
سولہ منتخب ارکان پر پابندی
15 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد