گوشوارے نہ جمع کرانے پر معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات کی تفصیل فراہم نہ کروانے پر سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پنتالیس اراکین کو امور کی انجام دہی سے روک دیا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایک سینیٹر، دس اراکینِ قومی اسمبلی، سرحد اسمبلی کے انیس، پنجاب اسمبلی کے بارہ، بلوچستان اسمبلی کے دو جبکہ سندھ اسمبلی کا ایک رکن شامل ہے۔ کنور دلشاد نے ان اراکین کے نام بتانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور کہا کہ ناموں کا اعلان منگل کی صبح کیا جائے گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اراکینِ پارلیمان میں کسی وزیر کا نام شامل نہیں ہے۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان اراکین میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سینیٹر ثناء اللہ بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی فوزیہ وہاب اور مسلم لیگ(ق) کے رکنِ سندھ اسمبلی منظور شیرازی کا نام بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اراکین کے پارلیمان کی کارروائی میں حصہ لینے پر پابندی انیس سو چھہتر کے عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی شق 40۔2 اے کے تحت لگائی گئی ہے جبکہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے والے اراکین کے نام گزٹ آف پاکستان میں شائع کر دیئے گئے ہیں۔ کنور دلشاد نے یہ بھی بتایا کہ الیکشن کمشنر آف پاکستان نے چیئرمین سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سپیکروں کو بذریعہ خط آگاہ کر دیا ہے کہ مذکورہ اراکین کو کارروائی میں اس وقت تک حصہ نہ لینے دیا جائے جب تک یہ اثاثہ جات کی تفصیل جمع نہ کروا دیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے ایوانِ بالا اور قومی و صوبایی اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد بارہ سو ہے اور الیکشن کمیشن نے ان اراکین کو تیس ستمبر دو ہزار چھ تک اپنے اثاثہ جات کی تفصیل فراہم کرنے کے لیئے کہا تھا اور بعد ازاں یہ تاریخ تیرہ اکتوبر تک بڑھا دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق اراکینِ پارلیمان اپنے، اہلیہ یا خاوند اور بچوں کے اثاثوں کے بارے میں سالانہ تفصیلات جمع کرانے کے پابند ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان کے ’بے گھر‘ ممبران اسمبلی24 May, 2006 | پاکستان سولہ منتخب ارکان پر پابندی15 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||